لاک ڈاؤن میں استثنیٰ خدمات پر جی او میں ترمیم کی ضرورت

   

پولیس کی ہراسانی ناقابل برداشت، پولیس رویہ میں عدم تبدیلی پر سرکاری ملازمین کا خدمات سے بائیکاٹ کرنے کا انتباہ

حیدرآباد: ریاستی حکومت لاک ڈاؤن کے قواعد میں تبدیلی لانے کا فیصلہ کرچکی ہے تو اسے چاہئے کہ وہ فوری طور پر اس سلسلہ میں احکام جاری کرے کیونکہ لاک ڈاؤن میں جن خدمات کو لاک ڈاؤن سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے ان شعبوں اور سرکاری محکمہ جات میں خدمات انجام دینے والوں کو بھی پولیس کی ہراسانی ناقابل قبول ہے۔ ریاستی حکومت کے مختلف محکمہ جات میں خدمات انجام دینے والے ملازمین نے پولیس کی جانب سے گاڑیوں کی ضبطی پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو سرکاری ملازمین خدمات کی انجام دہی کے لئے دفتر حاضر نہیں ہوپائیں گے۔حکومت کی جانب سے سرکاری دفاتر کو 33 فیصد حاضری کے ساتھ کھلار کھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور گذشتہ کئی دن سے یہ سلسلہ جاری ہے لیکن آج محکمہ برقی‘ محکمہ بلدیہ ‘ محکمہ تعلیم ‘ جامعہ عثمانیہ کے علاوہ دیگر محکمہ جات میں خدمات انجام دینے والے ملازمین کے ساتھ پولیس کے ناشائستہ رویہ پر ملازمین کی تنظیموں نے خدمات کا بائیکاٹ کرنے کا انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت مکمل لاک ڈاؤن پر سختی سے عمل آوری کو یقینی بنانے کے اقدامات کرنا چاہتی ہے توکرے لیکن سرکاری دفاتر کو بھی مکمل بند کرنے کا فیصلہ کرنے کے احکامات جاری کرنے کے بعد اس طرح کی کاروائیوں کو یقینی بنانے کے اقداما ت کئے جائیں۔ ملازمین نے بتایاکہ اگر پیر 24مئی کو اسی طرح کی کاروائیاں ہوتی ہیں تو ایسی صورت میں ملازمین طویل رخصت حاصل کرلیں گے یا پھر خدمات کا بائیکاٹ کریں گے۔محکمہ برقی کے ملازمین کو پولیس کی جانب سے زدوکوب کرنے کی شکایت کا صدرنشین و منیجنگ ڈائریکٹر تلنگانہ اسٹیٹ جینکو مسٹر پربھاکر راؤ نے سخت نوٹ لیا اور کہا کہ محکمہ برقی کے ملازمین کی خدمات میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ کی جائے اور ان کی آمد و رفت پر بھی کوئی پابندی نہ لگائی جائے کیونکہ وہ لازمی خدمات انجام دے رہے ہیں۔