لاک ڈاؤن میں مرکز کی رعایتیں ، تلنگانہ میں عمل آوری ندارد

,

   

اسکولس میں آن لائن کلاسیس ، اساتذہ کی صد فیصد حاضری پر زور ، اساتذہ برادری ناراض
حیدرآباد۔ مرکزی وزارت داخلہ کی جانب سے لاک ڈاؤن میں رعایتوں کے چوتھے مرحلہ میں فراہم کی جانے والی رعایتوں پر من و عن عمل کرنے کا تلنگانہ حکومت کی جانب سے فیصلہ کیا گیا ہے ۔ ریاستی حکومت کے فیصلہ میں اساتذہ کی اسکولوں میں حاضری کے سلسلہ میں مرکزی حکومت کی ہدایات کو نظر انداز کرتے ہوئے تمام اساتذہ اور عملہ کی اسکولوں میں حاضری کو لازمی قرار دیا گیا ہے جبکہ مرکزی حکومت کی رعایت میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ اسکولوں میں 50 فیصد عملہ کو طلب کیا جائے لیکن ریاستی حکومت کے محکمہ تعلیم کی جانب سے جاری کردہ احکام میں 100 فیصد اساتذہ کی حاضری کو یقینی بنانے کی تاکید کی گئی ہے او رکہا جا رہاہے کہ محکمہ تعلیم کی جانب سے اسکول میں حاضر نہ ہونے والے اساتذہ کے خلاف کاروائی کی گنجائش رکھی گئی ہے۔ مرکزی حکومت کی جانب سے جاری کردہ احکامات میں آن لائن تعلیم کے آغاز کے ساتھ 50 فیصد تدریسی عملہ کو اسکول میں حاضر رہنے کی گنجائش فراہم کی گئی ہے لیکن تلنگانہ حکومت کی جانب سے 100 فیصد عملہ کو طلب کیا جانا مرکزی حکومت کے احکامات کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔ ریاست تلنگانہ میں آن لائن تعلیم کے آغاز کے ساتھ تمام سرکاری اسکولو ںمیں خدمات انجام دینے والے اساتذہ کو حاضر رہنے اور طلبہ کی آن لائن تعلیم کا جائزہ لیتے ہوئے انہیں واٹس اپ گروپس کے ذریعہ گھر میں کرنے کے کام حوالہ کرنے کی تاکید کی گئی ہے ۔ اساتذہ کی تنظیموں کے ذمہ داروں نے بتایا کہ ریاستی حکومت کے احکام پر عمل آوری میں کوئی قباحت نہیں ہے لیکن اگر حکومت کی جانب سے مرکزی حکومت کے تمام فیصلوںکو قبول کیا جا رہاہے تو ایسے میں 50 فیصد اساتذہ کی حاضری کو یقینی بنانے کے اقدامات سے کیوں گریز کیا جا رہا ہے۔اساتذہ برادری کا کہناہے کہ آن لائن تعلیم کے دوران انہیں صرف نگرانی اور طلبہ کو گھر میں کرنے کے کام سے واقف کروانا ہے جبکہ طلبہ آن لائن ‘ ٹیلی ویژن اور T-SAT کے ذریعہ فراہم کی جانے والی تعلیم پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہیں ۔ اسی لئے 50 فیصد اساتذہ کو طلب کرتے ہوئے کام چلانا کوئی مشکل نہیں ہے ۔ حکومت تلنگانہ کو اپنے احکامات کا جائزہ لیتے ہوئے ریاست کے سرکاری اسکولوں میں خدمات انجام دینے والے اساتذہ کو ان رعایتوں سے مستفید ہونے کا موقع فراہم کرنا چاہئے جو کہ مرکزی وزارت داخلہ کی جانب سے فراہم کی گئی ہیں۔