نفسیاتی عارضہ سے بچنے بچوں کے ساتھ تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر سے خوشگوار ماحول کی تشکیل
حیدرآباد۔10اپریل (سیاست نیوز) ملک بھر بلکہ دنیا بھر میں لاک ڈاؤن کے سبب پیدا شدہ حالات میں سب سے زیادہ کشیدہ حالات گھریلو ہوتے جار ہے ہیں اور ان حالات کو بہتر بنانے کیلئے لازمی ہے کہ گھروں میں خوشگوار ماحول کو یقینی بنایا جائے اور ایک دوسرے کو سمجھنے کی کوشش کی جائے کیونکہ موجودہ دور میں انسان کی ضروریات اور اس کے اپنے نظریات کے سبب جو صورتحال پیدا ہوتی ہے اس کو قبول کرنے کا مادہ نہ ہونے کے باعث رشتوں میں خرابی پیدا ہونے لگتی ہے اسی لئے صورتحال کی نزاکت کو محسوس کرتے ہوئے اس لاک ڈاؤن سے پریشان ہوتے ہوئے نفسیاتی امراض کا شکار ہونے کے بجائے گھر والوں کی نفسیات کو سمجھنے اور ان سے تعلق کو بہتر اور مضبوط بنانے کی کوشش کی جاتی ہے تو اس کے مثبت نتائج برآمد ہوں گے۔ ملک بھر میں لاک ڈاؤن کے بعد گھریل تشدد کے واقعات میں ہونے والے اضافہ کی رپورٹس نے شہریوں میں بے چینی کی کیفیت پیدا کردی ہے اور کہا جا رہاہے کہ ذہنی تناؤ کے سبب لوگ اس طرح کی افراتفری کا شکار بن رہے ہیں۔ ماہرین نفسیات کا کہناہے کہ اس صورتحال میں خود کو کسی بھی طرح کے نفسیاتی عارضہ میں مبتلاء ہونے سے بچانے کیلئے لازمی ہے کہ بچوں کے ساتھ مصروفیات میں اضافہ کریں اور بچوں کی جانب سے کی جانے والی سرگرمیوں کی سراہنا کرتے ہوئے انہیں اس بات کے لئے آمادہ کریں کہ وہ اس لاک ڈاؤن کے دوران اپنے اندر تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کی کوشش کر یں کیونکہ فرصت کے ایسے لمحات بہت کم ملتے ہیں اور اکثر بچوں کے لئے گرمائی تعطیلات ہی واحد ذریعہ ہوا کرتے ہیں جو ان کے اندر موجود تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے موقع فراہم کرتے ہیں ۔ والدین اگر بچوں کو اس لاک ڈاؤن کے دوران گھر میں ہی سمر کیمپ کا ماحول فراہم کرتے ہوئے ان کے اندر موجود صلاحیتوں کی جانچ کرتے ہیں تو انہیں بچوں کے مستقبل کو بہتر بنانے اور اس کے تعین میں آسانی ہوگی۔ لاک ڈاؤن کے دوران اگر گھر کے بڑوں میں کوئی نا اتفاقی پیدا ہوتی ہے اور کسی الجھن کے سبب ناراضگی میں اضافہ ہوتا ہے تو ایسی صور ت میں بڑوں کو ان مسائل کا حصہ بچوں کو بنانے سے گریز کرنا چاہئے اور ان معاملات سے بچوں کو دور رکھتے ہوئے اپنے معاملات کو سلجھانا چاہئے کیونکہ اگر ان معاملات سے بچے واقف ہونے لگتے ہیں تو وہ بھی ذہنی تناؤ کا شکار بننے لگتے ہیں اسی لئے کورونا وائرس سے بچاؤ کے ساتھ ذہنی و نفسیاتی تناؤ سے بھی بچاؤ کی ضرورت ہے جو کہ گھروں میں سکون اور بنیادی راحت کا باعث ہے ۔ لاک ڈاؤن کے دوران سب گھر میں رہنے اور عادات و اطوار میں موجود فرق کے سبب کچھ حرکتیں نامناسب نظر آتی ہیں لیکن اگر وہ حرکتیں واقعی نامناسب ہیں تو انہیں بہتر وقت اور بہتر انداز میں درست کیاجانا چاہئے ۔ذہنی تناؤ کے دورمیں اظہار رائے سے بھی اجتناب عافیت کا باعث ہوتا ہے اسی لئے گھروں میں خوشگوار ماحول بنائے رکھنے کو ترجیح دی جائے ۔