Swiggy، Zomato کے ڈیلیوری بوائز پر پولیس کی لاٹھیاں، عثمانیہ یونیورسٹی ملازمین کے گاڑیاں ضبط
برقی ملازمین زدوکوبی کا شکار، تھیلسمیا کے مریض خون سے محروم
حیدرآباد : دونوں شہروں حیدرآباد وسکندرآباد میں لاک ڈاؤن پر سختی سے عمل آوری کے نام پر کی جانے والی کاروائی نے آج عوام میں دہشت پیدا کردی اور حکومت کی جانب جی او 102میں جن خدمات کو لاک ڈاؤن سے مستثنیٰ قراردیا گیا تھا ان شعبوں سے تعلق رکھنے والوں کی گاڑیوں کو پولیس کی جانب سے ضبط کئے جانے اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایکٹ کے تحت 1000 روپئے کے چالانات کئے گئے ۔ اس کے علاوہ بعض مقامات پر Swiggy اور Zomato کے ڈیلیوری بوائز پر پولیس نے اعلیٰ عہدیداروں کی موجودگی میں لاٹھیاں برسائی ۔ محکمہ پولیس کی جانب سے فوڈ ڈیلیوری بوائز کی گاڑیوں کی ضبطی کی اطلاعات کے ساتھ ہی عوام نے پولیس کی ان کاروائیوں پر شدید ناراضگی کا اظہار کرنا شروع کردیا اسی دوران اس بات کی شکایت وصول ہوئی کہ ضلع نلگنڈہ میں پولیس نے محکمہ برقی کے ملازمین کی پٹائی کی جس پر برہم برقی ملازمین نے زائد از دو گھنٹے برقی سربراہی منقطع کرتے ہوئے پولیس کی کاروائی کے خلاف احتجاج کیا۔ حکومت کی جانب سے جاری کئے جانے والے لاک ڈاؤن کے احکامات میں برقی خدمات کو بھی لازمی اور ہنگامی خدمات میں شامل رکھنے کا اعلان کیا گیا تھا ۔ تھیلیسمیا سے متاثرہ مریضوں کو جنہیں ہر دو ہفتہ میں ایک مرتبہ خون کی ضرورت ہے اور ان کے لئے عطیہ دہندگان کے ذریعہ ہی انتظام کیا جاتا ہے لیکن انہیں بھی آج خون کی قلت کا سامنا کرناپڑا کیونکہ محکمہ پولیس کی جانب سے عطیہ دہندگان اور مریضوں دونوں کے لئے ہی رکاوٹیں پیدا کیں جس پر تھیلیسمیا سکل کئیر سوسائیٹی نے پولیس کے رویہ پر شدید ناراضگی کا اظہار کیاکیونکہ تھیلیسمیا کے مریضوں کو خون اور عطیہ دہندگان طبی خدمات کا حصہ ہیں اور انہیں بھی پولیس کی جانب سے روکنے کی کوشش کی گئی ۔ جامعہ عثمانیہ کے ملازمین جو کہ حکومت کے احکامات کے مطابق 33 فیصد خدمات انجام دے رہے ہیں ان کی گاڑیوں کو بھی ضبط کیا گیا اور شام ہونے تک بھی ان کی گاڑیاں واپس نہیں کی گئیں۔ دونوں شہروں حیدرآبادو سکندرآباد کے علاوہ تینوں کمشنریٹ حیدرآباد‘ رچہ کنڈہ اور سائبر آباد کے حدود میں کی جانے والی ان کاروائیوں پر عوام میں شدید ناراضگی دیکھی گئی کیونکہ پولیس کی جانب سے دواخانہ کیلئے جانے والوں کو بھی روکا گیا اور ان کے ساتھ غیر شائستہ رویہ اختیار کیا گیا۔ جن گھرو ںمیں کورونا وائرس کے مریض زیر علاج ہیں اور ان کے لئے آکسیجن فراہم کرنے والوں کو بھی پولیس کی جانب سے رکاوٹ پیدا کئے جانے کی شکایات موصول ہوئی ہیں اور آکسیجن سیلنڈرس کی منتقلی پر بھی اعتراض کیا گیا۔ شہر میں Swiggyاور Zomato کے علاوہ دیگر فوڈ ڈیلیوری ایپ کے لئے خدمات انجام دینے والے ڈیلیوری بوائز کو روکتے ہوئے ان کی گاڑیوں کو ضبط کرلیا گیا ۔ مہدی پٹنم‘ کوکٹ پلی‘ ملک پیٹ ‘ حمایت نگر کے علاوہ دیگر کئی مقامات پر سینکڑوں کی تعداد میں گاڑیوں کی ضبطی کے ویڈیوز جیسے ہی سوشل میڈیا پر وائرل ہونے لگے اس کے ساتھ ہی مختلف سیاسی جماعتوں کے قائدین نے مداخلت کرتے ہوئے ہراسانی کو بند کرنے کا مطالبہ کیا۔ Swiggyاور Zomato نے صورتحال کو دیکھتے ہوئے اپنی خدمات کو فوری طور پر بند کردیا جبکہ جامعہ عثمانیہ کے ملازمین نے گاڑیوں کی ضبطی کی انتظامیہ سے شکایت کے بعد خدمات کا بائیکاٹ کرنے کا انتباہ دیا ہے۔ کورونا وائر س کے مریض جو گھریلو قرنطینہ میں ہیں اور ان کیلئے مختلف غیر سرکاری تنظیموں کی جانب سے اشیائے خورد ونوش کا انتظام کیا جارہا تھا اور بعض لوگ جو کہ Swiggy اور Zomato پر انحصارکئے ہوئے ہیں انہیں آج وقت پر کھانا نہیں مل پایا جبکہ جن ڈیلیوری بوائز کی گاڑیوں کو ضبط کیا گیا وہ کھانے کے پارسل اپنے ساتھ لئے میڈیا سے بات کرتے ہوئے یہ کہہ رہے تھے کہ حکومت کے احکامات کے مطابق وہ خدمات انجام دے رہے تھے لیکن آج کی گئی اس اچانک کاروائی سے انہیں نہ صرف معاشی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے بلکہ آرڈرس کینسل کئے جانے کے سبب انہیں اپنے جیب سے ادائیگی کرنی پڑتی ہے اس کے علاوہ ان پر 1000 روپئے کے چالان عائد کئے گئے ہیں۔دونوں شہرو ںمیں پولیس کی جانب سے کی جانے والی کاروائیوں پر مختلف گوشوں سے شدید تنقید کرتے ہوئے پولیس کی ہراسانی پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے وباء کے دوران لاک ڈاؤن کے نام پر عوام کو ہراساں نہ کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔
اور آج پیش آئے واقعات کی جامع تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے خاطی عہدیداروں کے خلاف کاروائی کی مانگ کی گئی ۔مہدی پٹنم رعیتو بازار کے قریب محکمہ پولیس کی جانب سے کی گئی کاروائی پر ڈیلیوری بوائز نے کچھ دیر کیلئے احتجاج کرتے ہوئے پولیس کو گاڑیوں کی ضبطی سے باز رکھنے کی کوشش کی لیکن پولیس کی بھاری جمعیت نے احتجاج پر مقدمات درج کرنے کا انتباہ دیا اس کے باوجود ڈیلیوری بوائز نے پولیس کی کاروائی پر سخت احتجاج کیا ۔