ِموجودہ حالات میں غیر ضروری خریداری سے احتیاط لازمی ۔ مستحقین میں بھی عید کی خوشیاں بانٹنے کو ترجیح دینے کی شدید ضرورت
25 کروڑ مسلمان فی کس 2 ہزار روپئے سے 50 ہزار کروڑ روپئے بچا سکتے ہیں
حیدرآباد یکم مئی(سیاست نیوز) ماہ رمضان المبارک مکمل لاک ڈاؤن میں گذرنے کی صورت میں مسلمانوں کی کروڑہا روپئے کی دولت محفوظ ہوجائے گی اور اگر مسلمان منصوبہ بند انداز میں عید الفطر کے موقع پر کی جانے والی خریداری میں احتیاط سے کام لیتے ہوئے اپنی عید کو سادگی کے ساتھ منانے کے علاوہ اپنے اطراف موجود مستحقین اور غریب طبقہ کی مدد کا فیصلہ کریں تو ان کی بھی سادگی کے ساتھ ہی صحیح عید ہوجائے گی ۔ہندستا ن میں مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک پر عرب ممالک میں برہمی کو دیکھتے ہوئے اس بات کا اندازہ کیا جانا چاہئے کہ کس حالات کس حد تک ابتر ہونے لگے ہیں کہ دنیا کے دیگر ممالک کو ہندستانی مسلمانوں کے متعلق آواز اٹھانی پڑرہی ہے اور ان حالات میں ہندستان کے سنجیدہ اور امن پسند مسلمانوں کو بھی حکمت اور منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات کرتے ہوئے صورتحال کو بہتر بنانے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہئے ۔ ہندستان میں مسلمانوں کی آبادی کی متعلق کہا جاتا ہے کہ ہندستان میں کم و بیش 25کروڑ مسلمان ہیں اور اگر عید الفطر کے موقع پر ان کی جانب سے فی کس 2000 روپئے بھی خرچ کئے جاتے ہیں تو یہ رقم مجموعی اعتبار سے 50 ہزار کروڑ سے تجاوز کرجاتی ہے اس بات کو ذہن نشین کرلیں کہ اس مرتبہ عید کے موقع پر کوئی ایسے خرچ نہیں کرنے ہیں جو اسراف کا حصہ ہوں یا نئے کپڑوں یا جوتوں کے نام پر خرچ کرنے کی بھی ضرورت نہیں ہے کیونکہ ملک اور دنیا کو جن حالات کا سامنا ہے ان حالات میں غریب و مستحقین کیلئے طویل مدت تک خدمات انجام دینی پڑسکتی ہے اسی لئے ہندستانی مسلمانوں کو عید کے موقع پر خریداری سے اجتناب کرکے اپنے مستحق اور ضرورت مند دینی بھائیوں کی مدد کو ترجیح دینا چاہئے ۔عید الفطر کے موقع پر کوئی خریداری نہیں کی جائیگی اس سلسلہ میں سوشل میڈیا پر جاری مہم میں کئی اہم اور سرکردہ لوگوں نے حصہ لینا شروع کردیا ہے اور کہہ رہے ہیں کہ وہ اس عید الفطر کے موقع پر نئے کپڑوں اور اشیاء کی خریداری کی بجائے اپنے غریب پڑوسیوں کی مدد کو ترجیح دیں گے۔
حکومت کی جانب سے غریبوں کی مدد کے نام پر اقدامات سے عدم اطمینان کا شکار شہریوں کی مدد کے ذریعہ ان کی اور اپنی عید کو یکساں کرنے کی کوشش کرنی ناگزیر ہے ۔ اسلام نے جو مساوات کا درس دیا ہے اس کے مطابق عید منانے کا جو موقع میسر آیا ہے اس کو گنوانے کے بجائے ہمیں ساتھ ملکر عید کی خوشیاں بانٹنے کے علاوہ ان سازشوں کو ناکام بنانا بھی ضروری ہے جو ملک میں موجوداقلیتی آبادی کو نشانہ بناتے ہوئے ملک کی فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو متاثر کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ہندستان میں کورونا کی وباکے اثر ات کو دیکھتے ہوئے حکومت کی جانب سے لاک ڈاؤن میں توسیع یا راحت کے متعلق فیصلہ کیا جائیگا لیکن اب جن حالات میں لاک ڈاؤن کے خاتمہ کا فیصلہ کیا جائے گا اس کے بعد بازاروں میں کوئی اثر نہیں دیکھا جائے گا کیونکہ شہریوں کی قوت خرید بھی محدود ہوچکی ہے اور جن حالات کا سامنا کر رہے ہیں ان میںاقلیتی طبقہ کو ان سازشوں کا احساس ہونے لگا ہے جو ان کے خلاف کی جا رہی ہے اور ان سازشوں کی تیاری اور ان پر عمل کیلئے رقومات بھی ان کے جیبوں سے ہی نکالی جانے لگی ہیں۔ عید کے موقع پر خریداری سے اجتناب اور محدود وسائل کے ساتھ عید منانے کو یقینی بنانے اقدامات پر شہریوں میں جاری بحث کو دیکھتے ہوئے ایسا محسوس ہورہا ہے کہ گذشتہ 6برسوں کے دوران ہندستانی مسلمانوں نے جن حالات سامنا کیا ہے اور گذشتہ 6ماہ کے دوران جو حالات پیدا کئے گئے تھے ان کو دیکھتے ہوئے مسلمانوں کے بیشتر طبقات میں سنجیدگی پیدا ہوچکی ہے اور اس سنجیدگی کا اظہار عید کی خریداری میں احتیاط کے ذریعہ کیا جائیگا۔