حیدرآباد۔31مئی(سیاست نیوز) لاک ڈاؤن کے ابتدائی ایام میں لازمی خدمات کے تحت کھولی جانے والی دکانات کے مالکین کے خلاف پولیس کی جانب سے بے بنیاد مقدمات درج کئے گئے اور اب انہیں ہراسانی کا سلسلہ شروع کردیا گیا ۔ رکہا جا رہاہے کہ جو مقدمات درج کئے گئے ان کا سامنا کریں یا معاملہ کو رفع دفع کرنے رجوع ہوں۔ پرانے شہر کے علاقہ میں گوشت ‘ ترکاری‘ کرانہ کے علاوہ دودھ وغیرہ کی جو دوکانات لاک ڈاؤن کے پہلے مرحلہ سے کھلے ہیں ان کو اب ہراساں کرکے کہا جا رہاہے کہ سماجی فاصلہ برقرار نہ رکھنے کے علاوہ بغیر ماسک کے گاہکوں کی موجودگی کے مقدمات درج ہیں ان میں انہیں جیل کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ لاک ڈاؤن کے پہلے مرحلہ سے کاروبار کرنے والے ان تاجرین کو ہراسانی کے سلسلہ میں مقامی سیاسی کارکنوں نے بتایا کہ شہر میں جن تجارتی اداروں کو اجازت حاصل تھی ان اداروں پر کاروبار کے دوران ہراساں کرنے کے کئی واقعات ہیں اور اب ان تاجرین میں خوف پیدا کیاجا رہاہے اور کہا جا رہاہے کہ ان کے خلاف مقدمات درج کئے جانے لگے ہیں اور اگر وہ چاہتے ہیں کہ مقدمہ درج نہ ہو تو پولیس اسٹیشن پہنچ کر معاملہ کو رفع دفع کرلیں۔ شہر میں لاک ڈاؤن کے پہلے مرحلہ میں پولیس کی شہریوں کو مارپیٹ کے واقعات نے وزیر داخلہ کو پولیس اسٹیشن کا دورہ کرکے ہدایات جاری کرنے پر مجبور کردیا تھا اور اب پولیس کی جانب سے اس طرح کی دھمکیوں کے ذریعہ اہلکاروں کی بدعنوانیوں پر خاموشی اختیار کی جاتی ہے تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوسکتے ہیں کیونکہ معمولی کاروبار کرنے والے غریب ناخواندہ دکانداروں کو کی جانے والی اس ہراسانی سے کئی مسائل پیدا ہونے کا خدشہ ہے ۔ محکمہ پولیس کے اعلی عہدیداروں نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ اس طرح کی کسی بھی شکایت سے اعلی عہدیداروں کو مطلع کریں تاکہ ان لوگوں کے خلاف کاروائی کی جاسکے جو اس طرح کی سرگرمیوں میں ملوث ہیں اور عوام کو ہراساں کرتے ہوئے محکمہ پولیس کی بدنامی کا سبب بن رہے ہیں۔