لاک ڈاون پر سختی سے عمل آوری کے نتیجہ میں کورونا پھیلاو میں کمی‘ کے سی آر

   

آئندہ چند دنوں میں ریاست وائرس سے پاک ہوجائیگی ۔ آج 21 اضلاع وائرس فری ہونگے ۔چیف منسٹر کا اعلی سطح کا جائزہ اجلاس

حیدرآباد 27 اپریل ( سیاست ڈاٹ کام ) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راو نے آج کہا کہ ریاست میں کورونا وائرس کے پھیلاو میں کمی ایک اچھی علامت ہے اور انہوں نے اس خیال کا اظہار کیا کہ یہ واضح اشارے ہیںکہ ریاست تلنگانہ آئندہ چند دنوں میں کورونا سے پاک ہوجائیگی ۔ چیف منسٹر نے اعلان کیا کہ 28 اپریل تک ریاست کے 21 اضلاع ایسے ہوجائیں گے جن میں کورونا کا ایک بھی مثبت کیس نہیںرہے گا ۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک اچھی علامت ہے کہ 97 فیصد کورونا مریض صحتیابی کے بعد ڈسچارج کئے جا رہے ہیں۔ چیف منسٹر نے یہ بھی اعلان کیا کہ چونکہ کورونا وائرس کے پھیلاو اور اس کے اثرات میں کمی آ رہی ہے ایسے میں ریاست میںکنٹینمنٹ مراکز کی تعداد میں کمی کی جائیگی ۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ دہلی کے تبلیغی مرکز گئے تھے یا ان سے رابطے میں آئے تھے ان کی نشاندہی کرلی گئی ہے اور ان کے معائنے بھی کئے جا رہے ہیں۔ عوام کو کسی بھی بات سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔ گذشتہ چند دنوں سے جو رجحان چل رہا ہے وہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ کورونا کا پھیلاو کم ہوتا جا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میڈیکل و ہیلت محکمہ پوری طرح تیار ہے تاکہ اگر آئندہ دنوں میں کوئی مثبت کیس آئے تو اس کی نشاندہی کرکے مناسب کارروائی کی جائے ۔ چیف منسٹر نے آج وزیر اعظم نریندرمودی کے ساتھ ویڈیو کانفرنس کے بعد پرگتی بھون میں اعلی عہدیداروں کے ساتھ ایک جائزہ اجلاس منعقد کیا ۔ وزیر صحت و طبابت ایٹالہ راجندر ‘ وزیرداخلہ محمد محمود علی ‘ ٹی آر ایس پارلیمانی پارٹی لیڈر ڈاکٹر کے کیشو راو ‘ حکومت کے مشیر اعلی راجیو شرما ‘ چیف سکریٹری سومیش کمار ‘ ڈی جی پی ایم مہیندر ریڈی ‘ پرنسپل سکریٹریز نرسنگ راو ‘ شانتی کماری ‘ کمشنر بلدیہ لوکیش کمار ‘ سابق اسپیکر مدھوسدن چاری اور دوسروں نے شرکت کی ۔ چیف منسٹر نے ریاست میں کورونا وائرس کے پھیلاو کا تفصیلی جائزہ لیا ۔ انہوں نے مریضوں کو فراہم کئے جانے والے علاج ‘ سہولیات اور لاک ڈاون پر عمل آوری کے مسائل پر بھی غور کیا ۔ محکمہ صحت کے عہدیداروں نے چیف منسٹر سے کہا کہ کورونا وائرس سے متاثر افرادکی تعداد میں گذشتہ دنوں سے کافی کمی آ رہی ہے ۔ پیر کو 159 افراد کے معائنے کئے گئے اور صرف دو مثبت کیس آئے ہیں۔ چیف منسٹر نے کہا کہ وائرس کے پھیلاو کو ریاست میں لاک ڈاون پر سختی سے عمل آوری کے ذریعہ ہی روکا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وائرس کے پھیلنے کی وجہ پہلے وہ افراد رہے جو بیرونی ممالک سے آئے تھے اور پھر وہ لوگ رہے جو مرکز کو گئے تھے ۔ تاہم پولیس اور طبی عہدیداروں کی وجہ سے ان رابطوں کی تلاش کی گئی اور معائنے کئے گئے اور علاج کیا گیا جس کے اچھے نتائج سامنے آئے ہیں۔ ریاست میں سب سے زیادہ کیسیس حیدرآباد ‘ سوریہ پیٹ ‘ گدوال اور وقار آباد اضلاع سے آئے ہیں۔ دوسرے اضلاع میں یہ تعداد بہت کم ہے ۔ جی ایچ ایم سی حدود میں میں سب سے زیادہ کیسیس ہیں تاہم یہاں 30 سرتکل ایسے ہیں جہاں کورونا کا ایک بھی کیس نہیں ہے ۔ یہ وائرس محض چند سرکلوں تک محدود ہے ۔ اس صورت میں کئی کنٹینمنٹ سرکلوں کو ختم کیا جا رہا ہے ۔ حکومت ان مراکز کو کم کر رہی ہے جہاںکیسیس کم ہیں۔ ریاست میں کئی افراد کا قرنطینہ کا دورانیہ 8 مئی کو ختم بھی ہو رہا ہے اور وائرس کم پھیل رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اب یہ یقین ہونے لگا کہ آئندہ چند دن میں ریاست میں ایک بھی مثبت کیس نہیں رہے گا ۔ اگر ایک دو کیس آتے ہیں تو انکے علاج میں کوئی مشکل نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ایک جامع حکمت عملی کے تحت کام کر رہی ہے ۔