لاک ڈاون کا منفی اثر۔ ریاست کی آمدنی میں خاطر خواہ کمی

   

ماہانہ ضروریات و اخراجات کی تکمیل کیلئے حکومت نے گزشتہ ماہ 5 ہزار کروڑ کا قرض حاصل کیا
حیدرآباد ۔ ریاست کی آمدنی جاریہ مالیاتی سال (2021-22) میں بھی توقع کے مطابق نہیں ہو رہی ہے۔ ماہ اپریل کی آمدنی ٹھیک تھی مگر مئی کی آمدنی تشویشناک حد تک گھٹ گئی۔ بالخصوص کورونا لاک ڈاؤن کی وجہ سے ریاست کی آمدنی بڑی حد تک گھٹ گئی۔ اپریل میں تقریباً 9980 کروڑ روپے کی آمدنی حاصل ہوئی جس میں تقریباً 2 ہزار کروڑ روپے مختلف ذرائع سے بطور قرض حاصل کئے گئے تھے۔ ماہ مئی کے دوران ریاست کی آمدنی 5 ہزار کروڑ روپے کے آس پاس رہی۔ اپریل کے مقابلے میں آمدنی تقریباً 50 فیصد گھٹ گئی۔ واضح رہے کہ حکومت نے جاریہ سال کا بجٹ 2.30 لاکھ کروڑ کا اندازہ کرتے ہوئے پیش کیا۔ اس نشانے کو عبور کرنے کے لئے ماہانہ 20 ہزار کروڑ روپے سے زیادہ آمدنی کی ضرورت ہے۔ تاہم اس سطح پر آمدنی حاصل نہیں ہو رہی ہے۔ اپریل میں جی ایس ٹی کے ذریعہ 3 ہزار کروڑ کی آمدنی حاصل ہوئی۔ اسٹامپس اور جسٹریشن کے ذریعہ 726 کروڑ سیل ٹیکس کے ذریعہ مزید 1926 کروڑ روپے کی آمدنی حاصل ہوئی۔ شراب کی فروخت سے 1000 کروڑ مرکزی ٹیکس میں ریاست کے حصہ کے طور پر 500 کروڑ گرانٹ ان ریڈ کی شکل میں مزید 258 کروڑ روپے کی آمدنی حاصل ہوئی۔ اس کے علاوہ 1925 کروڑ روپے کا قرض حاصل کیا گیا۔ جس سے ریاست کے ماہانہ ضروریات کی تکمیل ہوئی ہے۔ ماہ مئی کے دوران کورونا وباء میں شدت پیدا ہو جانے کی وجہ سے حکومت نے لاک ڈاؤن نافذ کیا جس سے ریاست میں تجارتی سرگرمیاں ٹھپ ہوگئی۔ ماہ مئی کے دوران رجسٹریشن کے ذریعہ صرف 230 کروڑ روپے کی آمدنی ہوئی۔ ماہ اپریل کا تقابل کریں تو 500 کروڑ کی آمدنی گھٹ گئی۔ سیل ٹیکس کی آمدنی بھی گھنٹے کی اطلاعات ہے جس کی وجہ سے حکومت نے ماہ میں تقریباً 5 ہزار کروڑ روپے کا قرض حاصل کیا ہے۔ ماہ جون میں ریتو بندھو اسکیم کے ذریعہ کسانوں کے بینک کھاتوں میں نقد رقم جمع کرنا ہے۔ اس کیلئے حکومت فنڈس اکٹھا کرنے میں مصروف ہے۔ آمدنی گھٹ جانے سے سرکاری ملازمین کی اضافہ شدہ جو تنخواہ ہے اس کو روکا گیا ہے۔ حکومت کو اواخر جون تک ریاست کی آمدنی بحال ہو نے کی توقع ہے۔