لاک ڈاؤن مدت کے اضافی برقی بلز میں کمی ،اسمبلی میں چیف منسٹر کا تیقن

,

   

کورونا کے سبب میٹر ریڈنگ نوٹ نہیں کی گئی،پرانے شہر میں 15 سب اسٹیشنوں کی منظوری : وزیر برقی
حیدرآباد۔چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے لاک ڈاؤن کی مدت کے جاری کردہ برقی بلز کا جائزہ لیتے ہوئے اضافی رقم کی کمی کے اقدامات کا تیقن دیا۔ قانون ساز اسمبلی میں برقی کی صورتحال پر مباحث کے دوران ارکان کے ضمنی سوالات کا جواب دیتے ہوئے چیف منسٹر نے کہا کہ لاک ڈاؤن کے نتیجہ میں عہدیدار برقی کی میٹر ریڈنگ نہیں کرپائے لہذا اس مدت کے جاری کردہ بلز میں اضافی رقم کو حکومت کم کرنے کے اقدامات کرے گی۔ چیف منسٹر نے مرکزی بل کے نقصانات، ریاست میں برقی کے شعبہ میں ترقی کے علاوہ سری سیلم پاور پلانٹ میں آتشزدگی کے واقعہ پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ ارکان نے شکایت کی کہ کوویڈ کے سبب برقی میٹر ریڈنگ ریکارڈ نہیں کی جاسکی اور 3 مہینے کا بل یکساں طور پر جاری کردیا گیا جو عوام پر اضافی بوجھ ہے۔ تین مہینے کا بھاری بل جاری ہوا ہے اور حکومت کو عوام کو راحت پہنچانے کیلئے اقدامات کرنے چاہیئے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ اضافی بل کی اجرائی حقیقت ہوبھی سکتی ہے اور نہیں بھی، میں اس بارے میں نہیں جانتا۔ اب جبکہ آپ حضرات نے میرے علم میں یہ بات لائی ہے، میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ متعلقہ حکام کو ہدایت دوں گا۔ تین ماہ کے بل کو تقسیم کرتے ہوئے اگر اضافی رقم پائی گئی تو اسے بل سے منہا کردیا جائے گا۔ میں آپ کو اس کا یقین دلاتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ عوام پر کسی طرح کا کوئی بوجھ عائد نہیں کیا جائے گا۔ اسی دوران وزیر برقی جگدیش ریڈی نے کہا کہ تلنگانہ ریاست کے قیام کے بعد سے حیدرآباد کے پرانے شہر میں برقی کی سربراہی میں بہتری پیدا ہوئی ہے اور کٹوتی اور دیگر شکایات کا ازالہ ہوا ہے۔

مباحث کے دوران مجلس کے رکن احمد پاشاہ قادری کی جانب سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں وزیر برقی نے کہا کہ پرانے شہر میں برقی کی سربراہی بہتر ہوئی ہے۔ مجلسی رکن نے بھی پرانے شہر میں برقی کی سربراہی کے حکومت کے اقدامات کی ستائش کی۔ انہوں نے کہا کہ پرانے شہر میں ٹرنسفارمر ریپیرنگ سنٹر کے قیام کیلئے نمائندگی کی گئی تاکہ پرانے شہر میں ٹیکنیکی بنیاد پر برقی سربراہی میں خلل کی صورت میں فوری ٹرانسفارمر تبدیل کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ ٹرانسفارمر کی تبدیلی میں کئی گھنٹے درکار ہورہے ہیں۔ وزیر برقی نے بتایا کہ پرانے شہر میں زیر زمین کیبل کا کام شروع کیا گیا ہے اور ابھی تک 206 کیلو میٹر کا کام مکمل ہوگیا۔ پرانے شہر کیلئے نئے سب اسٹیشن منظور کئے گئے ہیں۔ جملہ 15 سب اسٹیشن منظور کئے گئے جن میں سے 9 کا کام مکمل ہوچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ ریاست کے قیام کے بعد سے پرانے شہر میں برقی سربراہی کو بہتر بنانے کیلئے 1300 کروڑ خرچ کئے گئے۔ قبل ازیں احمد پاشاہ قادری نے کہا کہ متحدہ آندھرا پردیش میں پرانا شہر برقی کے مسائل سے دوچار تھا۔ کے سی آر برسراقتدار آنے کے بعد ہر شعبہ کیلئے برقی کی سربراہی بہتر ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2014 میں 7778 میگا واٹ برقی تیار کی جاتی تھی جو 2020 میں 15886 میگاواٹ ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بارش اور تیز ہواؤں کی صورت میں ٹرانسفارمرس میں خرابی پیدا ہورہی ہے اور برقی تار ٹوٹ جاتے ہیں۔