عبادت گاہیں بند رہیں گی، تفریحی و اسپورٹس سرگرمیوں پر پابندی، شادی میں 40 ‘ تدفین میں 20 افراد کو اجازت
حیدرآباد : تلنگانہ حکومت نے لاک ڈاؤن میں 9 جون تک توسیع کرتے ہوئے نئے رہنمایانہ خطوط جاری کئے ہیں جس کے تحت سرکاری دفاتر اور اہم خدمات سے متعلق محکمہ جات کے ملازمین کو لاک ڈاؤن سے استثنیٰ دیا گیا ہے۔ چیف سکریٹری سومیش کمار کی جانب سے جاری کردہ احکامات کے تحت محکمہ جات ہیلت اینڈ فیملی ویلفیر، اربن ڈیولپمنٹ و پنچایت راج، الیکٹرسٹی، واٹر سپلائی، اکسائز، کمرشل ٹیکس، ٹرانسپورٹ، اسٹامپ اینڈ رجسٹریشن، اگریکلچر، سیول سپلائز اور ہارٹیکلچر محکمہ جات کے ملازمین اور اُن کی گاڑیوں کو لاک ڈاؤن میں گزرنے کی اجازت رہے گی۔ سرکاری دفاتر 50 فیصد ملازمین کی حاضری کے ساتھ کام کریں گے اور ملازمین کی ڈیوٹی روسٹر کی بنیاد پر الاٹ کی جائے گی۔ سرکاری دفاتر کے اوقات صبح 10 تا دوپہر ایک بجے تک رہیں گے۔ حکومت نے سنیما ہالس، کلبس، سوئمنگ پولس، بارس، پبس، جیمنازیم اور اسٹیڈیم کو مکمل طور پر بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جی او کے مطابق ریاست کی سرحدوں پر ای پاس کے بغیر پاسنجر گاڑیوں کو داخلہ کی اجازت نہیں رہے گی۔ آر ٹی سی، سٹ ون، حیدرآباد میٹرو، ٹیکسی اور آٹو رکشہ کی خدمات صبح 6 تا دوپہر 2 بجے تک جاری رہیں گی۔ ہوم آئسولیشن کی پابندی والے افراد کو سختی سے عمل کرنا ہوگا بصورت دیگر اُنھیں سرکاری آئسولیشن سنٹر منتقل کردیا جائے گا۔ شادیوں میں 40 افراد اور تدفین و آخری رسومات میں 20 افراد کی اجازت رہے گی۔ تمام مذہبی مقامات کو بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ سماجی، سیاسی، مذہبی، اسپورٹس، تفریحی، تعلیمی اور تہذیبی اجتماعات پر پابندی رہے گی۔ تمام آنگن واڑی سنٹرس بند رہیں گے۔ پٹرول پمپس کو صبح 6 تا ایک بجے دن کھلا رکھنے کی اجازت دی گئی ہے۔ اشیائے ضروریہ کی سربراہی جیسے دودھ، سرکاری، اناج، ڈیری پراڈکٹس، میٹ، فش اور پولٹری کی سربراہی لاک ڈاؤن سے مستثنیٰ رہے گی۔ ای کامرس، ڈیلیوری کو لاک ڈاؤن سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے جس کے تحت غذا، ادویات اور میڈیکل آلات کو سربراہی کرنے کی گنجائش رہے گی۔ ایل پی جی سلینڈرس کی سربراہی کرنے کی اجازت رہے گی۔ گریٹر حیدرآباد کے حدود میں گڈس وہیکلس کو رات 9 تا دوسرے دن صبح 11 بجے دن تک داخلہ کی اجازت رہے گی تاہم اُنھیں علیحدہ پاسیس کی ضرورت نہیں ہوگی۔ ریسٹورنٹس سے صرف ٹیک اوے سرویس کی اجازت دی گئی ہے۔ اراضیات اور گاڑیوں کے رجسٹریشن کو لاک ڈاؤن سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔