لاک ڈاؤن کے خاتمہ کے بعد سماجی دوری یا نئے طرز معاشرت کے اُصولوں پر عمل آوری غیریقینی

   

Ferty9 Clinic

پارکنگ اور فٹ پاتھس کی جگہ عدم دستیاب ، دکانداروں کیلئے عمل آوری پر وضاحت ضروری

حیدرآباد۔10مئی (سیاست نیوز) لاک ڈاؤن کے خاتمہ کے بعد عام زندگی فوری بحال ہوگی ! اب جبکہ ملک اور ریاست میں حالات کو معمول کی سمت لائے جانے کے اقدامات کی بات کی جا رہی ہے تو اس وقت شہریوں میں یہ بحث جاری ہے کہ کیا لاک ڈاؤن کے خاتمہ کے بعد عام زندگی معمول کے مطابق رہے گی یا نئے طرز معاشرت اور سماجی فاصلہ کی برقراری کے سلسلہ میں جاری کی جانے والی ہدایات کے مطابق عمل کرتے ہوئے شہریوں کو پابندیوں کا سامنا رہے گا!شہر حیدرآباد میں جاری مباحث میں یہ عام رائے پائی جانے لگی ہے کہ ایک مرتبہ لاک ڈاؤن کے خاتمہ کے بعدشہر میں سماجی فاصلہ کی برقراری یا نئے طرز معاشرت کے اصولوں کی پاسداری ممکن نہیں ہوگی۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ہندستانی شہروںکی گنجان آبادیوں میں سماجی فاصلہ کی برقراری کے علاوہ شہر حیدرآباد کے بیشتر علاقوں میں سماجی فاصلہ کی برقراری کو ممکن بنائے جانے کا امکان لاک ڈاؤن کے خاتمہ کے بعد یقینی نہیں ہو پائے گا۔ شہر میں جہاں گاڑیوں کی پارکنگ کے لئے جگہ موجود نہیں ہے اور پیدل راہگیروں کے لئے فٹ پاتھ پر جگہ دستیاب نہیں ہے ایسے شہر میں سماجی فاصلہ کی توقع کس طرح کی جاسکتی ہے!شہر حیدرآباد میں جہاں فٹ پاتھ اور پارکنگ کے مسائل ہیں ایسے شہر میں اگر تاجرین کو سماجی فاصلہ کی برقراری کے ساتھ تجارت کی شرط مقرر کی جاتی ہے تو وہ کس طرح کاروبار کرے اس بات کی وضاحت کوئی کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔ فی الحال شہر میں حکومت کی جانب سے جن دکانات کو اجازت فراہم کی گئی ہے ان تجارتی اداروں پر ہی تجارتی سرگرمیا ں موجود ہیں اور ان تجارتی اداروں کے روبرو طویل قطاریں لگائی جا رہی ہیں کیونکہ پڑوسی دکانات بند ہیں لیکن جب لاک ڈاؤن کا خاتمہ ہوگا تو ایسی صورت میں تمام دکانات کھول دی جائیں گی اور جب دکانات کھول دی جائیں گی تو سماجی فاصلہ کی قطاروں کی گنجائش موجود نہیں ہوگی ایسی صورت میں کیا نئے طرز معاشرت کے اصول برقرار رہ پائیں گے!ماہر اطباء کا کہناہے کہ اگر لاک ڈاؤن کے خاتمہ کے بعد سماجی فاصلہ اور ماسک جیسے امور اور شرائط کو اختیار کرنے میں کوتاہی کی جاتی ہے تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوسکتے ہیں اسی لئے لاک ڈاؤن کے خاتمہ کے سلسلہ میں جس طرح کی احتیاط اختیار کی جانی چاہئے اس پر خصوصی توجہ دی جانا ضروری ہے کیونکہ لاک ڈاؤن کے خاتمہ کو اگر آزادی کا حصول سمجھتے ہوئے سماجی فاصلہ کو بالائے طاق رکھنے اور تجارت کا آغاز کرنے کا فیصلہ کرنا نہ صرف تاجرین بلکہ شہریوں کے لئے بھی انتہائی سنگین مسئلہ بن سکتا ہے اسی لئے حکومت اور عوام دونوں کو ہی لاک ڈاؤن کے خاتمہ کے ساتھ مستقبل کے لائحہ عمل اور منصوبہ بندی کا بھی تعین کیا جانا چاہئے تاکہ کورونا وائرس کی وباء پر قابو پانے کیلئے کئے جانے والے اقدامات اور اب تک کئے گئے لاک ڈاؤن کو رائیگاں ہونے سے بچایا جاسکے اور شہریوں کی زندگی کے تحفظ کے علاوہ اپنی صحت کی حفاظت کو بھی یقینی بنایا جائے۔ شہری علاقو ں میں سماجی فاصلہ کی برقراری کے ساتھ تجارتی اصولوں اور شرائط کی تیاری کے دوران عہدیداروں کو پارکنگ کی فراہمی کے علاوہ فٹ پاتھ کی سہولت کی فراہمی پر بھی توجہ مرکوز کرنی چاہئے کیونکہ اگر فٹ پاتھ کی سہولت فراہم نہ کرتے ہوئے سماجی فاصلہ کی برقراری کی بات کی جاتی ہے تو ایسے میں کسی بھی علاقہ میں سماجی فاصلہ کے اصولو ں کو برقرار رکھا جانا ممکن نہیں ہوگا۔