لاہور کا قدیم میوزیم جو تہذیب و تمدّن کی یادگاروں سے بھرا ہوا ہے

,

   

1894ء میں تعمیر کیے گئے لاہور میوزیم کو جنوبی ایشیا میں بہت اہمیت حاصل ہے اور اسے تاریخی ثقافتی مرکز بھی کہا جاسکتا ہے۔ پاکستان کے شہر لاہور کی معروف شاہراہ مال روڈ پر واقع اس میوزیم کی عمارت بھی اپنے طرزِ تعمیر کے لحاظ سے بھی پُرکشش اور ایک شاہ کار ہے۔

یہ تاریخی میوزیم مغلیہ طرزِ تعمیر کا ایسا نمونہ ہے جو دنیا بھر میں مشہور ہے۔ اس میوزیم میں مغل اور سکھ دور کے نوادرات کے علاوہ برطانوی دور کی اشیا اور فن پارے محفوظ ہیں، جن میں لکڑی اور دھات کی بنی ہوئی اشیا، مشینیں، اوزار، ہتھیار، سکّے، آلاتِ موسیقی، مصوّری کے فن پارے، مجسمے، مورتیاں، دست کاری اور انسانی ہاتھوں کے ہنر کے کئی نمونے بھی شامل ہیں۔

میوزیم میں سکھوں کی مقدس کتاب گورو گرنتھ صاحب کے 200 سال قدیم سروپ (نسخے ) کو سکھوں کے مذہبی رسم و رواج کے مطابق پالکی صاحب میں رکھ دیا گیا ہے جب کہ میوزیم میں سکھوں کے نوادرات پر مشتمل الگ گیلری بنانے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔

سکھ عقیدے کے مطابق گورو گرنتھ صاحب کو رکھنے کے خاص آداب اور طریقے ہیں۔ لاہورمیوزیم نے سکھوں کی مذہبی روایات کا خیال رکھتے ہوئے گورو گرنتھ صاحب کو پالکی صاحب میں رکھا ہے۔ پالکی صاحب کا تحفہ مقامی سکھ سنگت کی طرف سے دیاگیا ہے۔ پالکی صاحب خاص طور پر تیار کروائی گئی ہے۔لاہور کے اس قدیم عجائب خانے میں زیورات، برتن، ملبوسات بھی موجود ہیں جو ایک عہد کی تہذیب اور ثقافت کی کہانی سناتے ہیں۔

اس میوزیم کے مختلف گوشوں میں قدیم ریاستوں اور والیان و امرائے ماضی کی یادگاریں بھی محفوظ ہیں۔ یہاں‌ بدھا دور کی یادگاریں بھی ہیں۔آرٹ، کلچر، قدیم آثار اور تاریخ سے متعلق نایاب نوادرات اس عجائب گھر کی زینت ہیں جن میں‌ خاص طور پر اس خطّے کی تہذیب اور ثقافت سے متعلق اشیا میں دنیا بھر سے آنے والے سیّاح خاص دل چسپی لیتے ہیں۔لاہور کا یہ قدیم میوزیم علمی و ثقافتی اعتبار سے نہایت اہمیت کا حامل ہے اور تاریخ و فنون کے طلبا کا اس میوزیم کا مطالعاتی دورہ معلومات افزا ثابت ہوتا ہے۔اس میوزیم میں‌ مقامی لوگوں کے علاوہ مختلف ممالک سے عام سیّاحوں کے علاوہ اساتذہ اور ماہرینِ آثار بھی علمی اور مطالعاتی دورے پر آتے رہتے ہیں۔ انتظامیہ کی جانب سے یہاں اہم اور یادگار دنوں کی مناسبت سے بھی تاریخی اور قدیم اشیا کی نمائش کی جاتی ہے اور بڑی تعداد میں‌ لوگ یہ نمائش دیکھنے آتے ہیں۔