منی پور پر وزیر اعظم سے مباحث کا مطالبہ، کانگریس اور بی جے پی سے یکساں دوری برقرار رکھنے کا فیصلہ
حیدرآباد۔/26 جولائی، ( سیاست نیوز) لوک سبھا میں بی آر ایس نے نریندر مودی حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی ہے۔ مجلس نے بی آر ایس کی تحریک عدم اعتماد کی تائید کی اور مجلس کے رکن اسد الدین اویسی نے بی آر ایس کے ساتھ تحریک عدم اعتماد کی نوٹس پر دستخط کئے۔ منی پور کی پُرتشدد صورتحال سے نمٹنے میں مرکز کی ناکامی اور وزیر اعظم نریندر مودی سے لوک سبھا میں بیان دینے کے مطالبہ کے تحت تحریک عدم اعتماد پیش کی گئی۔ کانگریس زیر قیادت اپوزیشن اتحاد نے علحدہ طور پر تحریک عدم اعتماد پیش کی اور بی آر ایس نے کانگریس کے ساتھ شمولیت کے بجائے علحدہ فیصلہ کیا۔ لوک سبھا میں بی آر ایس کے فلور لیڈر ناما ناگیشور راؤ اور پارٹی ارکان ڈاکٹر رنجیت ریڈی، بی بی پاٹل، بی دیاکر اور ایم سرینواس ریڈی نے تحریک کی نوٹس پر دستخط کئے۔ اسی نوٹس پر اسد الدین اویسی نے بھی دستخط کرتے ہوئے کانگریس کے بجائے بی آر ایس کی تحریک عدم اعتماد کی تائید کی۔ نوٹس میں اسپیکر لوک سبھا سے درخواست کی گئی کہ لوک سبھا قواعد کے تحت تحریک کو کارروائی کے حصہ کے طور پر شامل کیا جائے۔ واضح رہے کہ بی آر ایس نے بی جے پی اور کانگریس زیر قیادت محاذوں سے خود کو علحدہ رکھا ہے۔ تحریک عدم اعتماد کی کامیابی بی جے پی کی عددی طاقت کے اعتبار سے ممکن نہیں ہے لیکن منی پور کی صورتحال پر وزیر اعظم نریندر مودی کے بیان کیلئے دباؤ بنانے کی حکمت عملی کے تحت یہ نوٹس دی گئی۔ بی آر ایس
نے اپنے ارکان کو وہپ جاری کرتے ہوئے مباحث میں حصہ لینے اور تحریک کی تائید میں ووٹ دینے کی ہدایت دی ہے۔ بی آر ایس نے ایک اور وہپ جاری کرتے ہوئے پارٹی ارکان کو دہلی میں عہدیداروں کے تبادلے اور تقررات سے متعلق آرڈیننس کو بل میں تبدیل کرنے کی مخالفت کی ہدایت دی ہے۔ حکومت کی جانب سے یہ بل جاریہ سیشن میں پیش کیا جاسکتا ہے۔ اسی دوران بی آر ایس کے رکن رنجیت ریڈی نے وزیر اعظم کے رویہ پر تنقید کی اور کہا کہ منی پور کے واقعات پر وزیر اعظم کی خاموشی افسوسناک ہے۔ وزیر اعظم کو ایک سنگین مسئلہ پر اپنی خاموشی توڑنی چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد پر مباحث کے نتیجہ میں عوام منی پور کی حقیقی صورتحال سے واقف ہوں گے۔ رنجیت ریڈی نے کہا کہ ان کی پارٹی بی جے پی اور کانگریس زیر قیادت اتحاد میں شامل نہیں ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ کانگریس کے ساتھ ہرگز نہیں جائیں گے۔ چیف منسٹر دہلی اروند کجریوال کی درخواست پر مرکزی حکومت کے آرڈیننس کی مخالفت کا فیصلہ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ دہلی حکومت کے خلاف جاری کردہ آرڈیننس کی بی آر ایس مخالفت کرے گی۔ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں بی آر ایس نے کانگریس اور بی جے پی کے ساتھ یکساں دوری برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا۔
