لٹویا میں پارلیمانی الیکشن، یوکرین جنگ کا معاملہ اہم موضوع

   

برسلز۔ 3 اکتوبر (ایجنسیز) لٹویا میں ہفتہ کے روز پارلیمانی انتخابات کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ پڑوسی ملک روس سے متعلق سکیورٹی خدشات اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کی وجہ سے عوامیت پسند سیاسی جماعتوں کی مقبولیت میں اضافہ نوٹ کیا جا رہا ہے تاہم توقع ہے کہ یہ نتائج ملک کی یورپ اور یوکرین نواز پالیسی میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں لائیں گے۔ رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق موجودہ وزیر اعظم آندریس کولبرگز کی سینٹر رائٹ جماعت یونائیٹڈ لسٹ 14 فیصد سے زائد ووٹوں کے ساتھ سب سے آگے ہے۔ اقتصادی مسائل کو بنیاد بنا کر حمایت حاصل کرنے والی عوامیت پسند جماعتوں کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کے باعث حکومتی اتحاد کمزور ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ تین بالٹک ممالک میں نسبتاً کم خوشحال سمجھے جانے والے لٹویا میں مہنگائی اور معاشی مشکلات اہم انتخابی موضوعات بن چکی ہیں۔ موجودہ حکومتی اتحاد میں یونائیٹڈ لسٹ، نیو یونٹی، یونین آف گرینز اینڈ فارمرز اور نیشنل الائنس شامل ہیں، لیکن سروے اشارہ دیتے ہیں کہ انتخابات کے بعد یہ اتحاد اپنی موجودہ شکل میں اقتدار برقرار نہیں رکھ سکے گا۔ حریفوں کی جانب سے روس نواز قرار دی جانے والی عوامی جماعت ساورین پاور، جس کی قیادت جولیا اسٹیاپانیاکو کر رہی ہیں، نو فیصد سے زائد حمایت کے ساتھ دوسرے نمبر کی بڑی جماعت بن سکتی ہے۔ اس جماعت نے یوکرین کے لیے فوجی امداد اور دفاعی اخراجات میں مزید اضافے کی مخالفت کی ہے اور اندرونی معاشی مسائل کو اپنی مہم کا محور بنایا ہے۔ اگرچہ اس جماعت کی مقبولیت میں اضافہ ہو رہا ہے لیکن بڑی سیاسی جماعتوں نے اس کے ساتھ اتحاد سے انکار کیا ہے، اس لیے اس کے حکومت میں شامل ہونے کے امکانات کم ہیں۔ ان انتخابات میں 14 جماعتیں اور اتحاد حصہ لے رہے ہیں، تاہم سروے بتاتے ہیں کہ صرف سات جماعتیں پارلیمان میں داخلے کے لیے درکار پانچ فیصد ووٹ حاصل کر سکیں گی۔ پارلیمان میں آنے کی توقع رکھنے والی زیادہ تر جماعتیں دفاعی اخراجات کو بلند سطح پر برقرار رکھنے اور یوکرین کی حمایت جاری رکھنے کی حامی ہیں۔