حیدرآباد میں یومیہ ہزاروں نکاح ، قانون سازی سے قبل کاغذی خانہ پوری
حیدرآباد۔30 ڈسمبر(سیاست نیوز) حکومت کی جانب سے لڑکیوں کی شادی کی عمر میں اضافہ کے سلسلہ میں قانون سازی کے خوف کے سبب روزانہ ہزاروں نکاح شہر حیدرآباد میں منعقد ہونے لگے ہیں اور شہری خوف کے عالم میں اپنے بچوں کے نکاح کی کاروائی کو قانون سازی سے قبل مکمل کروانے کی کوشش میں مصروف ہیں۔مرکزی حکومت نے لڑکیوں کی شادی کی عمر کو 18 سے بڑھا کر 21کرنے کا بل لوک سبھا میں پیش کرتے ہوئے منظور کروایا ہے لیکن اس کے بعد یہ بل سیلیکٹ کمیٹی کو روانہ کیا گیا ہے اس کے باوجود شہریوں میں خوف دیکھا جا رہاہے اور کہا جا رہاہے کہ اگر قانون سازی ہوجاتی ہے تو ایسی صورت میں سال 2022یا2023 کے دوران جو نکاح منعقد کئے جا نے والے ہیں انہیں لڑکیوں کی عمر کے سبب ملتوی کرنا پڑسکتا ہے اسی لئے قانون سازی سے قبل نکاح کی کاروائی مکمل کرتے ہوئے کاغذی خانہ پری کی جا رہی ہے۔دونوں شہروں حیدرآباد وسکندرآباد میں قاضیوں کی مانگ میں زبردست اضافہ دیکھا جا رہاہے اور کئی قاضی یومیہ 30تا40 نکاح کی کاروائیاں انجام دے رہے ہیں جن میں بیشتر نکاح تقاریب یا مساجد میں منعقد کی جا رہی ہیں یا گھروں میں سادگی کے ساتھ مکمل کی جا رہی ہیں ۔جو والدین اپنے لڑکے یا لڑکیوں کی عمر کی بناء پر عجلت میں نکاح کر رہے ہیں ان کا کہناہے کہ وہ نکاح کی تاریخ متعین کرچکے ہیں لیکن اگر قانون سازی ہوجاتی ہے تو ایسی صورت میں ان تواریخ میں نکاح کی کاروائی اور اندراج دشوار ہوگا اسی لئے وہ کسی بھی طرح کی قانون سازی سے قبل نکاح کے امور کو تکمیل کر رہے ہیں اور جو تواریخ مقرر کی گئی ہیں ان تواریخ پر وداعی عمل میں لائی جائے گی۔قاضیوں کا کہنا ہے کہ مرکزی حکومت کی جانب سے کی جانے والی کاروائیوں کو دیکھتے ہوئے جس طرح سے شہریوں میں عجلت میں نکاح کی تقاریب کا رجحان دیکھا جا رہاہے اس طرح کی صورتحال سابق میں کبھی نظر نہیں آئی ۔ دونوں شہروں میں قضات سے رابطہ کرنے پر اس بات کا پتہ چل رہا ہے کہ تمام قاری نکاح جو نکاح کے امور کی خانہ پری کرتے ہیں اور دستاویزات کی تیاری عمل میں لاتے ہیں انتہائی مصروف ہیں۔ حکومت کی جانب سے غیر واضح صورتحال اور عوام میں تشویش پیدا کئے جانے کے سبب شہریوں کو مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اور وہ پریشان ہیں۔م