لکھنؤ20مارچ(سیاست ڈاٹ کام ) اترپردیش کی راجدھانی لکھنؤ میں جمعہ کو کورونا وائرس کے چار نئے معاملے آنے سے ریاست میں کورونا وائرس سے متأثرین کی تعداد اب بڑھ کر 23 ہوگئی ہے ۔ریاستی راجدھانی لکھنؤ کے مہانگر علاقے میں ایک ڈاکٹر کے کنبے کے تین لوگ اس سے متأثر ہیں۔ دلچسپ ہے کہ ڈاکٹر کناڈا سے کورونا متأثر آئی ایک خاتون کا علاج کررہا تھا۔ کنگ جارج میڈیکل یونیورسٹی کے مطابق ڈاکٹر کے کنبے کو الگ الگ وارڈوں میں داخل کرایا گیا ہے ۔ سبھی مریضوں کی عمر 20 سے 37 سال ہے ۔ چار متأثرین میں تین مرد اور ایک بچی ہے ۔اترپردیش میں اب تک کورونا کے 23 معاملے سامنے آئے ہیں جس میں آگرہ کے 8،لکھنؤ کے 8،نوئیدٓ کے چار اور غازی آباد کے دو ہیں۔ آگرہ اور غازی آباد کے مریضوں کی دہلی میں داخل کرایا گیا ہے جس میں سبھی کی طبیعت مستحکم بتائی جاتی ہے ۔
کورونا وائرس سے کشمیر کا شعبہ سیاحت بُری طرح متاثر
سرینگر 20مارچ (سیاست ڈاٹ کام ) عالمی وبا کورونا وائرس کی وادی میں دستک نے یہاں شعبہ سیاحت، جو گزشتہ قریب آٹھ ماہ سے وینٹی لیٹر پر تھا، کو صفر پر پہنچا دیا ہے جس کے باعث اس شعبہ سے وابستہ ہزاروں افراد کے روزگار کی سبیل دوبارہ زندہ ہونے کی امیدوں پر پانی پھیر گیا ہے ۔بتادیں کہ وادی میں سال گذشتہ کے اگست، جب مرکزی حکومت نے سیاحوں کو کشمیر چھوڑنے کی ایڈوائزری جاری کی تھی، سے شعبہ سیاحت وینٹی لیٹر پر ہے جس کے باعث اس شعبہ سے وابستہ ہزاروں لوگ روزی روٹی سے محروم ہوئے ہیں۔ اس شعبہ سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ ما بعد پانچ اگست کے حالات نے ہماری کمر توڑ ہی دی تھی اب رہی سہی کسر اس وائرس نے نکال دی۔وادی میں جھیل ڈل کے کناروں اور زبرون پہاڑیوں کے دامن میں واقع مشہور آفاق اندرا گاندھی ٹلپ گارڈن اور سری نگر کے چھٹی پادشاہی علاقے میں واقع مشہور بادام واری ماہ رواں میں سیاحوں کے لئے کھلنے کی توقعات سے شعبہ سیاحت کی جان میں جان آنے اور اس شعبہ سے وابستہ ہزاروں لوگوں کی فکر معاش دور ہونے کی امیدیں جاگزین ہوئی تھیں لیکن کورونا وائرس نے ان تمام امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے ۔باغ گل لالہ میں 50 اقسام کے 13 لاکھ پھول سیاحوں کے استقبال اور ان کو محظوظ کرنے کے لئے تیار ہیں لیکن سیاح مقامی و غیر ملکی کورونا وائرس کے خطرات کے پیش نظر گھروں میں ہی محصور ہیں اور انتظامیہ نے بھی باغوں کو بند رکھنے کے احکامات صادر کئے ہیں۔