لیبیا،غزہ،یمن ہر جگہ عرب شہری عرب لیگ سے ناامید ہیں

   

دبئی : جنگ اورفاقہ کشی سے تباہ حال یمن سے لے کر شدیدبحران میں مبتلا لیبیا تک، پوری عرب دنیا کے بیشتر شہریوں کا کہنا ہے کہ انہیں کوئی امید نہیں ہے کہ ان کے ملکوں کو عرب لیگ کے نومبر کے سربراہی اجلاس سے کوئی فائدہ ہوگا۔ خبر رساں ادارے، رائٹرز نے مختلف عرب ملکوں کے شہریوں سے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ عرب لیگ کے سربراہی اجلاس سے وہ کیا امید رکھتے ہیںعرب دنیا میں بیشتر لوگوں نے عرب لیگ کے سربراہی اجلاس پر عدم اعتماد کا اظہار کیا، جس کی میزبانی الجزائر کررہا ہے۔تنازعات کے شکار ان ملکوں میں بہت سے لوگوں نے کہا کہ انہیں لیگ سے ابھی تک کوئی مثبت نتیجہ یا تبدیلی نظر نہیں آرہی ہے۔خانہ جنگی سے تباہ حال شام کے شہر دمشق میں موجود یوسف کا کہنا تھا کہ شام میں جنگ کے آغاز سے ہی عرب لیگ میں شام کی رْکنیت معطل تھی۔رائٹرز سے بات کرتے ہوئے لیبیا کے دارالحکومت طرابلس میں محمد احمد جبریل نے کہاکہ اس میں کوئی شک نہیں کہ عرب لیگ نے 1945 میں اپنی بنیاد رکھنے کے بعد سے کوئی ایسا موقف اختیار نہیں کیا جس پر عرب عوام بھروسہ کر سکیں۔وہ کہتے ہیں کہ اس کا موقف ہمیشہ ہی ہچکچاہٹ کا شکار رہا ہے اورزیادہ سے زیادہ جو اس نے کیا ہے وہ کچھ عرب ملکوں میں ہونیوالے مسائل کی مذمت ہے۔جبریل کہتے ہیں عرب عوام کو سربراہی اجلاس سے زیادہ امیدیں نہیں ہیں، چاہے وہ الجزائر میں ہو ،یا مستقبل میں ہونے والے اجلاس۔مصری شہری، ایمان یحییٰ،کو بظاہرلیگ کی افادیت کے بارے میں اس صورت میں کچھ امید ہے اگر وہ اپنے ایجنڈے کو معاشی اور تعلیمی مسائل پر مرکوز کرے۔یمن کے دارالحکومت صنعاء میں فوجی امور کے ماہر، بریگیڈیئر جنرل عبدالغنی الزبیدی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ عرب شہریوں کو کوئی امید نہیں ہے۔
الجزائر میں ہونے والے سربراہی اجلاس میں سترہ عرب رہنماؤں کی شرکت متوقع ہے۔میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ سعودی ولی عہد بن سلمان الجزائر میں عرب لیگ کے سربراہی اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے۔بن سلمان کی غیر موجودگی کا اعلان ہفتے کے روز ان کی الجزائر کے صدر عبدالمجید تبون کو فون کال کے دوران کیا گیا۔سعودی ولی عہد کے حال ہی میں علیل ہونے کی اطلاع ملی تھی، اور شاہی ذرائع کے مطابق ڈاکٹروں نے سربراہی اجلاس کے لیے سفر نہ کرنے کی تجویز دی ہے۔ سعودی حکومت نے ابھی تک سربراہی اجلاس میں بن سلمان کی غیر موجودگی کا باضابطہ اعلان نہیں کیا ہے۔اس اجلاس میں مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی اور قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی کی شرکت متوقع ہے۔دیگر شرکا میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس اور اسلامی تعاون تنظیم کے سیکرٹری جنرل حسین برہم طٰہٰ شامل ہیں۔