لیڈرز کلائمیٹ سمٹ2021 کا آغاز ، 40 عالمی قائدین کی شرکت

,

   

Ferty9 Clinic

برطانیہ کا 2035 تک کاربن کے اخراج میں 35 فیصد کمی لانے کا اعلان

واشنگٹن: امریکی صدر جوبائیڈن نے لیڈرز کلائمیٹ سْمٹ2021 کا آغاز کردیا گیا ہے جبکہ جو بائیڈن کی سربراہی میں ہونے والی اس ورچوئل ماحولیاتی کانفرنس میں دنیا کے 40 عالمی قائدشرکت کر رہے ہیںبین الاقوامی میڈیا کے مطابق موسمیاتی تبدیلیوں سے متعلق ہونے والی لیڈرز کلائمٹ سمٹ 2021 شروع ہوگئی ہے جس میں امریکہ، چین یاور روس کے صدورسمیت دیگر عالمی قائدین نے شرکت کی ہے جبکہ کانفرنس میں پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کی نمائندگی معاون خصوصی ملک امین اسلم کررہے ہیں ۔رپورٹس کے مطابق وائٹ ہاؤس میں ہونے والی اس کانفرنس کا مقصد ماحولیاتی تبدیلیوں کے چلینجز سے نبردآزما ہونا ہے جبکہ امریکہ نے ماحولیاتی خطرات کم کرنے کے لیے 2023 تک کاربن کے اخراج کو پچاس فیصد تک کم کرنے کا اعلان کردیا کیا ہے۔ امریکی صدر کا کہنا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی اثرات سے محفوظ بناناضروری ہوگیا، جس کے خطرات کم کرنے کے معاشی تقاضے بدلنا ہونگے، انہوں نے عالمی قائدین پر زور دیاکہ دنیا بھرمیں گرین ملازمتیں فراہم کی جانی چاہئیں۔دوسری جانب برطانیہ نے 2035تک کاربن کے اخراج میں 78 فیصد تک کمی لانے کا اعلان کیا ہے جبکہ دنیا میں سب سے زیادہ کاربن کا اخراج کرنے والے ملک ہندوستان نے کاربن کے اخراج میں کمی کے لیے کوئی وعدہ نہیں کیا ہے۔چینی صدر نے موسمیاتی تبدیلی کے علاقائی اور عالمی اثرات پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موسمیاتی یتبدیلی کے اثرات کو روکنا ہماری ترجیح ہے، چین گرین ہاؤس گیسز اخراج روکنے کیلئے کوئلے کے استعمال میں کمی لائیگا، کورونا وائرس مشترکہ دشمن ہے، عالمی برادری کو مل کر اس کیخلاف لڑنا ہے۔روسی صدر نے کہا کہ ماحولیاتی و موسمیاتی خطرات کو کو کم کرنے پر خصوصی توجہ دینا ہوگی۔واضح رہے گلوبل کاربن پراجیکٹ 2020 کی رپورٹ کے مطابق چین سالانہ 2777 ملین ٹن کاربن خارج کرکے سرفہرست ہے ، دوسرے پر امریکہ ہے جہاں سالانہ 1442 ملین ٹن کاربن کا اخراج ہوتا ہے، تیسرے نمبر پر ہندوستان ہے جہاں ہر سال 714 ملین ٹن کاربن خارج ہوتی ہے۔دوسری طرف سعودی عرب کے شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے زیر قیادت اعلیٰ سطح کا وفد امریکہ کی میزبانی میں عالمی لیڈروں کی دوروزہ ورچوئل عالمی کانفرنس میں شرکت کررہا ہے۔سعودی ولیعہد نے گذشتہ ماہ مملکت کے علاوہ مشرقِ وسطیٰ بھر میں قدرتی ماحول کے تحفظ کے موقع پرکہا تھا کہ’’دنیا میں تیل کے سب سے بڑے پیداکنندہ ملک کی حیثیت سے ہم موسمیاتی بحران کے خلاف جنگ میں اپنی ذمے داریوں سے مکمل طور پرآگاہ ہیں۔تیل اور گیس کے دور میں ہم نے توانائی کی مارکیٹوں کے استحکام میں بنیادی کردارادا کیا ہے۔ہم آئندہ گرین دور میں بھی اپنا قائدانہ کردارادا کرتے رہیں گے۔‘‘ان کا کہنا تھا کہ’’سعودی عرب اور خطے کو بہت سے ماحولیاتی چیلنجز کا سامنا ہے۔ان میں بنجرپن خطے کو درپیش سب سے بڑا چیلنج ہے۔گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کے سبب ہوا کی آلودگی کے نتیجے میں شہریوں کی زندگی میں اوسطاً ڈیڑھ سال کمی واقع ہوئی ہے۔‘‘شہزادہ محمد بن سلمان کے اعلان کردہ سعودی سبزاقدام کے تحت ہریالی کو بڑھانے ،کاربن کے اخراج میں کمی ،آلودگی کے مسئلہ سے نمٹنے،اراضی کو بنجرپن کا شکار ہونے سے بچانے اور آبی حیات کے تحفظ کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔