ماسک کا عدم استعمال خطرناک ثابت ہوسکتا ہے

   

بارہا انتباہ کے باوجود عوامی لاشعوری ، اچھی صحت کے لیے ماسک کا استعمال اور سماجی فاصلہ لازمی
حیدرآباد۔ ماسک کا عدم استعمال بہادری نہیں حماقت ہے اور حماقت کا انجام خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ کورونا وائرس کی وباء کے دوران ماسک کے استعمال کے ذریعہ کورونا وائرس سے متاثر ہونے سے محفوظ رہا جاسکتا ہے اور ماسک کے علاوہ سماجی فاصلہ کے ذریعہ وائرس کو پھیلنے سے روکا جاسکتا ہے لیکن اس کے باوجو د اب بھی کئی شہریوں میں اس سلسلہ میں شعور نہیں دیکھا جا رہاہے اور وہ ماسک کے استعمال سے اب بھی گریز کررہے ہیں جو کہ نہ صرف ان کے لئے نقصاندہ ہے بلکہ اگر وہ متاثر ہیں تو دوسروں کیلئے بھی نقصاندہ ثابت ہوسکتے ہیں۔ دونوں شہر وں حیدرآباد وسکندرآباد کے علاوہ ریاست کے کئی مقامات پر لاک ڈاؤن میں صبح سے شام تک کے اوقات میں نرمی کے بعد یہ دیکھا جانے لگا ہے کہ شہریوں کی جانب سے ماسک کا استعمال بھی ترک کیا جا رہاہے اور وہ بغیر ماسک کے گھروں سے باہر نکل رہے ہیں۔ ریاست میں لاک ڈاؤن میں رعایت کا فیصلہ کیا گیا ہے اور اس نرمی کے دوران ماسک کے استعمال کی پابندی کی شرط برقرار ہے اور ماسک کا استعمال نہ کرنے والوں پر جرمانہ کی گنجائش قانون کے مطابق باقی ہے۔ شہریوں میں ماسک کے استعمال کے رجحان میں دیکھی جانے والی کمی کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ کا سبب بن سکتی ہے اسی لئے ماسک کے استعمال کو ترک کرنے کے بجائے جو لوگ ماسک کا استعمال کرنے سے گریز کر رہے ہیں ان میں شعور اجاگر کرتے ہوئے انہیں ماسک کے استعمال کے لئے آمادہ کرنے کی ضرورت ہے۔ کورونا وائرس وباء کے دوران ماسک کی اہمیت کا انداز ہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ کورونا وائرس ٹیکہ کے حصول کے باوجود ماسک کا لزوم برقرا ر رکھنے کی ضرورت پر زور دیا جا رہاہے اور دنیا کے کئی ترقی یافتہ ممالک میں کورونا وائرس ٹیکہ اندازی کے چند ہفتوں بعد ماسک کے لزوم کو برخواست کیا گیا ہے اس بات کو بھی مد نظر رکھا جانا چاہئے ۔ ریاست اور ملک سے کورونا وائرس کے مکمل خاتمہ کے لئے لازمی ہے شہری ماسک کے لزوم کی پابندی کرتے ہوئے کورونا وائرس کے خاتمہ میں اپنا تعاون کریں ۔ ماہرین کا کہناہے کہ جو لوگ لاک ڈاؤن کی سختیوں کا مکمل خاتمہ چاہتے ہیں انہیں چاہئے کہ وہ ماسک کے لزوم کے علاوہ سماجی فاصلہ کے اصولوں کی سختی سے پابندی کریں کیونکہ ان دو امور پر سختی سے پابندی کی صورت میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں نمایاں کمی ریکارڈ کی جاسکتی ہے جو کہ حکومت کو لاک ڈاؤن کے خاتمہ کے متعلق غور کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔