مالیگاؤں کیس میں بری پروہت کو بریگیڈیئر کے عہدہ پر ترقی

   

ممبئی ، 10 اپریل (یو این آئی) ہندستانی فوج کے افسر پرساد پروہت کو 2008 مالیگاؤں دھماکہ کیس میں برأت کے ایک سال سے بھی کم عرصے بعد بریگیڈیئر کے عہدے پر ترقی دینے کی منظوری دے دی گئی ہے ۔ یہ پیشرفت 54 سالہ افسر کی تقریباً دو دہائیوں پر محیط قانونی اور پیشہ ورانہ جدوجہد کے خاتمہ کی علامت سمجھی جا رہی ہے۔ مالیگاؤں میں 29ستمبر 2008کو ہونے والے دھماکے ، جو نوراتری اور رمضان کے دوران عید سے قبل پیش آیا، میں چھ افراد ہلاک اور 101زخمی ہوئے تھے ۔ یہ واقعہ مہاراشٹرا کے ضلع ناسک میں پیش آیا تھا، جو ممبئی سے تقریباً 300کلومیٹر دور ہے ۔اس مقدمے میں 31جولائی 2025کو این آئی اے عدالت کے خصوصی جج ابھیے لاہوٹی نے ناکافی شواہد کی بنیاد پر تمام سات ملزمان، بشمول پرساد پروہت، کو بری کر دیا تھا۔ اس کے بعد 27ستمبر 2025کو انہیں کرنل کے عہدے پر ترقی دی گئی۔بریت کے بعد پروہت نے مسلح افواج کے ٹریبونل سے رجوع کیا تھا، جس نے ان کی 31مارچ کو ہونے والی ریٹائرمنٹ پر روک لگا دی تھی۔ اس سے قبل 21اگست 2017 کو سپریم کورٹ نے انہیں ضمانت دی تھی، جس کے بعد انہیں سدرن کمانڈ کے مہاراشٹرا، گجرات اور گوا (ایم جی اینڈ جی) علاقے سے منسلک کیا گیا تھا۔ اپنی بریت کے بعد پرساد پروہت نے کہا تھا کہ قوم سب کچھ ہے ، اور میں شکر گزار ہوں کہ مجھے اپنے ملک اور ادارے کی خدمت کا دوبارہ موقع ملا۔پونے میں لا کالج روڈ پر اپنے گھر واپسی پر انہیں شاندار استقبال ملا، جہاں انہوں نے اپنی تربیت اور اقدار کا سہرا اپنے معاشرے کو دیا اور عدالت کے فیصلے پر اظہارِ تشکر کیا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں مبینہ ہندو دہشت گردی کے زاویے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی مذہب میں تشدد کی اجازت نہیں دی جا سکتی اور صرف قیاس آرائی یا اخلاقی بنیادوں پر سزا نہیں دی جا سکتی۔ عدالت نے واضح کیا کہ دھماکہ ہونے کا ثبوت ضرور ملا، لیکن یہ ثابت نہیں ہو سکا کہ بم کس نے رکھا تھا۔I/H
اس سے قبل بعض میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ بدھ کی رات شنڈے نے ٹھاکرے دھڑے کے نو میں سے آٹھ ارکانِ پارلیمنٹ کے ساتھ خفیہ ملاقات کی تھی۔ ان رپورٹس کے مطابق ان ارکان نے مبینہ طور پر شنڈے کی قیادت کی حمایت کا یقین دلایا تھا۔