جالندھر: سنیوکت کسان مورچہ کی رکن مہیلا کسان یونین نے اتوار کو پنجاب حکومت کے پنشنرز پر 200 روپے ماہانہ ترقیاتی ٹیکس لگانے کے فیصلے کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے ریٹائرڈ ملازمین پر مالی بوجھ پڑے گا۔ مہیلا کسان یونین کی صدر راجویندر کور راجو نے اتوار کو عام آدمی پارٹی (اے اے پی) کی طرف سے ماضی میں اور روزانہ کی بنیاد پر کئے جانے والے لمبے لمبے دعووں اور ضمانتوں کے باوجود حکومت کی موجودہ غلط ترجیحات پر شدید ناراضگی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس ٹیکس کی وجہ سے پنشنرز پر اضافی مالی بوجھ پڑے گا جبکہ بھگونت مان کی حکومت اپنے جھوٹے پروپیگنڈے ، تشہیر کے غیر ضروری آلات اور غیر ترقیاتی کاموں پر پچھلی حکومتوں سے 10 گنا زیادہ خرچ کر رہی ہے ۔انہوں نے کہا، “ملازمین کے طویل احتجاج کے باوجود ریاستی حکومت مرکزی تنخواہ کمیشن کی سفارشات کے مقابلے میں اپنے ملازمین کی اجرتوں اور الاؤنسز میں اضافہ کرنے کی اپنی ذمہ داریوں اور ضمانتوں کو پورا کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے ۔ اے اے پی حکومت پنشنرز کو جنوری 2016 سے نظرثانی شدہ پے اسکیلز اور لیو ان کیشمنٹ کے بقایا جات دینے کے بجائے ان کی جائز پنشن سے محروم کرنے پر تلی ہوئی ہے ۔