پٹن چیرو میں قافلے کو روک دیا گیا، صورتحال کشیدہ، پولیس سے تکرار
حیدرآباد۔ 4 جون (سیاست نیوز) پولیس نے صدرپردیش کانگریس اتم کمار ریڈی، رکن اسمبلی جگاریڈی اور پارٹی کے دیگر قائدین کو مانجرا پراجکٹ کے معائنے کے لیے روانگی کے موقع پر پٹن چیرو میں حراست میں لے لیا۔ اتم کمار ریڈی تلنگانہ میں کانگریس دور حکومت میں تعمیر کئے گئے پراجکٹس کا معائنہ کرنے کے لیے مہم کا اعلان کرچکے ہیں۔ سنگاریڈی کے رکن اسمبلی جگاریڈی کی دعوت پر وہ پارٹی قائدین نارائن ریڈی، کسم کمار اور دوسروں کے ہمراہ بنجارہ ہلز میں اپنے قیام گاہ سے بس کے ذریعہ روانہ ہوئے تھے۔ صبح سے ہی پولیس نے اتم کمار ریڈی کی قیام گاہ کے باہر سخت چوکسی اختیار کرلی تھی اور اندیشہ تھا کہ اتم کمار ریڈی کو سنگاریڈی روانگی سے قبل حراست میں لے لیا جائے گا۔ تاہم اتم کمار ریڈی اور دیگر قائدین خصوصی بس کے ذریعہ سنگاریڈی کے لیے روانہ ہوگئے۔ پولیس نے راستے بھر بس کا تعاقب کیا اور آخرکار پٹن چیرو میں پولیس کی بھاری جمعیت کے ساتھ بس کو روک لیا گیا۔ کانگریس قائدین اور پولیس عہدیداروں کے درمیان بحث و تکرار ہوئی تاہم پولیس نے آگے بڑھنے سے روک دیا اور کہا کہ پراجکٹ کے پاس امتناعی احکامات نافذ کئے گئے ہیں لہٰذا دورے کی کوئی گنجائش نہیں۔ اتم کمار ریڈی اور دیگر قائدین کو حراست میں لے کر بی ڈی ایل بھان پور پولیس اسٹیشن منتقل کیا گیا۔ پولیس اسٹیشن میں داخلے سے قبل کانگریس قائدین کی تھرمل اسکریننگ کی گئی تاکہ کورونا کی علامتوں کا پتہ چلایا جاسکے۔ چند گھنٹوں تک پولیس اسٹیشن میں رکھنے کے بعد شام میں رہائی عمل میں آئی۔ پٹن چیرو اور سنگاریڈی میں کانگریس کارکنوں کے احتجاج کے سبب صورتحال کشیدہ ہوگئی تھی۔ پولیس نے کسی بھی ناگہانی واقعہ سے نمٹنے کے لیے سخت انتظامات کئے تھے۔ رہائی کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے اتم کمار ریڈی نے الزام عائد کیا کہ حکومت اپوزیشن اور عوام کی آواز کو کچلنے کی کوشش کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں کے سی آر کی ڈکٹیٹرشپ حکمرانی چل رہی ہے۔ اپوزیشن قائدین کو عوامی مسائل پیش کرنے سے روکا جارہا ہے۔ چیف منسٹر نے کئی بار وعدہ کیا تھا کہ گوداوری کا پانی مانجرا اور سنگور پراجیکٹ کو سربراہ کیا جائے گا۔ سنگاریڈی علاقے کے عوام پانی کی قلت کا شکار ہیں اور پراجکٹ کے معاینہ کے لیے جانے کی کوشش پر گرفتار کرلیا گیا۔ چیف منسٹر کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے پولیس نے گرفتاری عمل میں لائی۔ انہوں نے سوال کیا کہ پراجکٹ کے معائنے سے کے سی آر کو کیا تکلیف ہے۔ انہوں نے ڈائرکٹر جنرل پولیس سے سوال کیا کہ آخر کس قانون کے تحت حراست میں لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئی پی ایس عہدیدار کلواکنٹلا پرائیویٹ آرمی میں تبدیل ہوچکے ہیں۔ کونڈا پوچما پراجکٹ کے افتتاح کے موقع پر کے سی آر نے لاک ڈائون قواعد کی خلاف ورزی کی تھی لیکن پولیس نے کوئی کارروائی نہیں کی۔ کانگریس قائدین معائنے کے لیے نکلتے ہیں تو ان پر لاک ڈائون کے تحت مقدمہ درج کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کے لیے ایک اور کے سی آر خاندان کے لیے علیحدہ قانون پر عمل کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مانجرا پراجکٹ دن بہ دن خشک ہورہا ہے جس کے نتیجہ میں اندول، نارائن کھیڑ، ظہیر آباد، پٹن چیرو، نرسا پور، میدک اور سنگاریڈی اسمبلی حلقوں میں زیر زمین پانی کی سطح گرچکی ہے۔ ان تمام حلقوں میں آبپاشی اور پینے کے پانی کی قلت کا سامنا ہے۔ بی ایچ ای ایل، بی ڈی ایل آرڈیننس فیاکٹریز، ایم آر ایف اور دیگر صنعتوں سے تعلق رکھنے والے مزدور پینے کے پانی کو ترس رہے ہیں۔