مانسون کے ساتھ ہی وبائی امراض کو نظر انداز کرنا نقصان دہ

   

Ferty9 Clinic

موسمی تبدیلی پر وائرس کی تشخیص ناگزیر ، کلینکس بند رہنے سے عوام کو مشکلات
حیدرآباد۔11مئی (سیاست نیوز) شہر حیدرآبادمیں مانسون کے ساتھ وبائی امراض کے پھیلنے کا عمل ماہ جون کے اوائل کے ساتھ ہونے لگتا ہے اور مانسون کی آمد کے ساتھ ہی سردی ‘ کھانسی ‘ بخار اور نزلہ جیسی وبائی بیماریوں کی شروعات ہونے لگتی ہے ۔ عام طور پر مانسون کے عروج پر پہنچتے پہنچتے سوائن فلو اور ڈینگو جیسے وبائی امراض کی توثیق ہونے لگتی ہے لیکن اب دنیا جن حالات کا شکار ہے ان حالات میں ان وبائی امراض کو نظر انداز کرنا انتہائی نقصاندہ ثابت ہوسکتا ہے۔ حکومت تلنگانہ کی جانب سے ریاست میں لاک ڈاؤن میں 29 مئی تک کی توسیعی دی گئی ہے اور مستقبل کے متعلق صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد فیصلہ کرنے کا اعلان کیا گیا ہے ۔ ریاست تلنگانہ میں جون کے اوائل یا وسط میں مانسون سرگرم ہوجاتا ہے اور موسم کی تبدیلی کے ساتھ ہی بخار‘ کھانسی ‘ سردی ‘ سردرد‘ اعضاء شکنی ‘ نزلہ اور دیگر عام وبائی امراض تیزی سے پھیلنے لگتے ہیں لیکن اب جو صورتحال ہے اس میں اگر یہ عام بیماریوں کا بھی شکار لوگ ہوتے ہیں تو انہیں کورونا وائرس کا معائنہ کروایا جانا ناگزیر ہوجائے گا کیونکہ کورونا وائرس کی علامتوں میں دیگر وبائی امراض کی تمام علامتیں موجود ہیں علاوہ ازیں شہر حیدرآباد میں ماہ جون کے دوران پائی جانے والی وبائی امراض کے خاتمہ کے لئے متعدد کوششوں کے باوجود بھی کامیابی حاصل نہیں ہوئی ہے کیونکہ انسانی جسم پر پڑنے والے موسمی تبدیلی کے اثرات عام بات ہے لیکن کورونا وائرس کی وباء کے اس دور میں جن حالات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ان حالات میں کوئی بھی وبائی یا موسمی بیماری قابل نظر انداز نہیں ہوگی اسی لئے ریاستی حکومت کی جانب سے عوامی ذہن سازی کا عمل شروع کردیا گیا ہے۔ ریاستی وزیر بلدی نظم ونسق مسٹر کے ٹی راما راؤ کی جانب سے مچھروں کی افزائش کو روکنے کیلئے کئے جانے والے اقدامات میں عوامی تعاون کے اقدامات کے آغاز کے سلسلہ میں کہا جا رہاہے کہ آئندہ ماہ کے دوران موسمی اور وبائی امراض کے پیش نظر صفائی کو یقینی بنانے کے علاوہ عوام کو صحت کے متعلق سنجیدگی اختیار کرنے کے لئے باشعور بنانے کی کوشش کرنا ہے۔ ماہر اطباء کا کہناہے کہ ریاست تلنگانہ میں موسمی تبدیلی کے ساتھ ہی شہریوں میں موسمی بیماریاں شروع ہونے لگتی ہیں اور ان کا شکار ہر عمر کے افراد ہونے لگتے ہیں لیکن بچوں اور ضعیف العمر افراد پر اس کے زیادہ اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔ موسمی تبدیلی اور مانسون کی آمد کے دور میں ریاستی حکومت کی جانب سے لاک ڈاؤن کے مکمل خاتمہ کی توقع کئے جانے پر اطباء پس و پیش سے کام لے رہے ہیں اور ان کا کہناہے کہ اگر کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد کم ہوتی ہے تب بھی حکومت کی جانب سے جون کے ابتدائی ایام یا وسط جون تک لاک ڈاؤن کے خاتمہ کی توقع نہیں کرنی چاہئے کیونکہ ان دنوں میں ریاست میں وبائی امراض عروج پر ہوتے ہیں جو کہ تبدیلی موسم کے سبب تیزی سے پھیلتے ہیں۔ محکمہ صحت کے عہدیداروں کا بھی کہنا ہے کہ ماہ جو ن کے اوائل میں ہی مچھروں کی افزائش ہوتی ہے اور ماہ جون کے دوران ہی ملیریا‘ ٹائیفڈ اور دیگر وبائی بخار کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا ہے۔ ریاست تلنگانہ کے علاوہ ملک کی دیگر ریاستوں میں گذشتہ 5برسوں سے سوائن فلو اور ڈینگو کے مریض ماہ جون اور جولائی کے دوران ہی پائے جارہے ہیں اور حکومتوں کی جانب سے اس بات کا بھی جائزہ لیا جا رہاہے اگر ان ایام میں وبائی امراض پھیلتے ہیں تو ان کی کس طرح سے روک تھام کی جائے گی اور کورونا وائرس اور دیگر وبائی امراض کے مریضوں کے درمیان کس طرح سے تفریق کی جائے !بتایا جاتا ہے کہ ریاستی ومرکزی حکومت کی جانب سے لاک ڈاؤن میں رعایت اورنئے طرز معاشرت کو اختیار کرنے میں سختی کرنے کے اقدامات کا بھی جائزہ لیا جا رہاہے لیکن وبائی امراض کے اس موسم میں جنرل فزیشنس کی خدمات ناگزیر ہوتی ہیں اور اگر حکومت کی جانب سے ڈاکٹرس اور کلینکس پر اسی طرح کی تحدیدات عائد رہتی ہیں تو ماہ جون کے دوران شہریوں کو معمولی امراض کیلئے بھی شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے اور موسم کی تبدیلی کے ساتھ ہی نزلہ ‘کھانسی ‘ سردی ‘ چھینک اور بخار کئی لوگوں کیلئے معمول کی بات ہوتی ہے لیکن موجودہ دور میں یہ بیماریاں جو معمولی تھیں وہ کرونا وائرس کی علامتیں قرار دی گئی ہیں۔