مانو میں پی ایچ ڈی (اردو)کے 90ریسرچ اسکالرس

   

یونیورسٹی میں اردو کو نظر انداز کرنے کی خبر پر انتظامیہ کی وضاحت

حیدرآباد۔20جنوری(سیاست نیوز) مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی نے ’روزنامہ سیاست‘ میں سیلف فینانس/پارٹ ٹائم پی ایچ ڈی پروگرام کے اعلامیہ میں اردو مضمون میں کوئی داخلہ کی گنجائش فراہم نہ کئے جانے سے متعلق خبر کی وضاحت کرتے ہوئے ریگولر پی ایچ ڈی (اردو) میں فراہم کئے جانے والے داخلوں کی تفصیلات پیش کی ہیں۔ اردو یونیورسٹی کی جانب سے جاری کردہ وضاحت میں یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کے اصولوں اور رہنمایانہ خطوط کا حوالہ دیتے ہوئے کہاگیا ہے کہ اردو یونیورسٹی میں مجموعی اعتبار سے پی ایچ ڈی (اردو) کے مختلف پروگرامس میں جملہ 90 ریسرچ اسکالرس تحقیق کر رہے ہیںجو کہ یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کے رہنمایانہ خطوط وقواعد کے مطابق ایک پروفیسر کی نگرانی میں 8 امیدوار تحقیق کرسکتے ہیں جبکہ اسوسی ایٹ پروفیسر کی نگرانی میں 6امیدواراور اسسٹنٹ پروفیسر کی نگرانی میں 4امیدوار پی ایچ ڈی کرسکتے ہیں۔یونیورسٹی کی جانب سے کی گئی وضاحت میں کہاگیا ہے کہ یونیورسٹی نے سیلف فینانس/پارٹ ٹائم پی ایچ ڈی کا جو اعلامیہ جاری کیا ہے وہ پی ایچ ڈی داخلوں کے لئے جاری کئے جانے والے اعلامیہ میں ایک اعلامیہ ہے اور یونیورسٹی کے ریگولر پروگرام میں مخلوعہ نشستوں کے مطابق داخلہ فراہم کیاجاتا ہے۔علاوہ ازیں یونیورسٹی 31مضامین میں پی ایچ ڈی کی سہولت فراہم کرتی ہے جبکہ یونیورسٹی میں فراہم کئے جانے والے پی ایچ ڈی داخلوں میں انگریزی ‘ ہندی ‘ عربی اور فارسی کے سواء دیگر تمام مضامین و شعبہ جات میں کی جانے والی پی ایچ ڈی اردو زبان میں ہی ہوتی ہے۔ارباب یونیورسٹی نے کی گئی وضاحت میںشعبہ اردودیگر متعلقہ شعبہ جات میں ریگولر پی ایچ ڈی پروگرام میں دیئے گئے داخلوں کے علاوہ دیگر شعبہ جات کے ذریعہ اردو کی خدمت کی تمام تر تفصیلات فراہم کیں لیکن سیلف فینانس /پارٹ ٹائم پی ایچ ڈی میں شعبہ اردو کے تحت داخلوں کی گنجائش فراہم نہ کئے جانے کے سلسلہ میںکوئی وضاحت پیش نہیں کی بلکہ یو جی سی کے قواعد کا حوالہ دیتے ہوئے یونیورسٹی میں 90 اسکالرس شعبہ اردو اور دیگر متعلقہ شعبہ جات میں تحقیق انجام دینے کی اطلاع پر انحصار کیاگیا ہے۔3