مانو ہتک عزت معاملہ : سابق چانسلر فیروز بخت پر ایک لاکھ کا جرمانہ ، جلی حروف میں معافی نامہ شائع کرنے کا حکم

   

نئی دہلی : سپریم کورٹ نے مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے شعبہ ماس کمیونیکیشن اینڈ جرنلزم کے پروفیسر اور سابق ڈین احتشام احمد خان کی جانب سے دائر کئے گئے مقدمے میں فیصلہ سناتے ہوئے سابق چانسلر فیروز احمد بخت کو حکم دیا کہ وہ شکایت کنندہ ( پروفیسر احتشام احمد خان ) کو ایک لاکھ روپئے ادا کریں اور ایناڈو اخبار میں صفحہ اول پر غیر مشروط معافی نامہ شائع کریں ۔ اس فیصلے کے ساتھ عدالت نے یہ مقدمہ خارج کردیا ۔ سپریم کورٹ نے 14 اکٹوبر کو اپنے فیصلے میں مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے سابق چانسلر فیروز احمد بخت کو ایک مہینے کے اندر تلنگانہ اور آندھرا پردیش میں سب سے زیادہ چھپنے والے اخبار ایناڈو کے پہلے صفحے پر غیر مشروط معافی نامہ چھاپنے کی ہدایت دی ۔ پورا معاملہ یہ ہے کہ یونیورسٹی کے سابق چانسلر فیروز احمد بخت نے اسکول آف ماس کمیونیکیشن اینڈ جرنلزم کے سابق ڈین پروفیسر احتشام احمد خان کے خلاف جنسی استحصال کا الزام عائد کرتے ہوئے ان پر ’ جنسی شکاری ‘ جیسے نازیبا تبصرے کیے ۔ 2018 میں ، فیروز بخت نے اس وقت کے انسانی وسائل کے مرکزی وزیر پرکاش جاوڈیکر کو خط لکھ کر پروفیسر احتشام احمد پر یونیورسٹی میں دو طالبات کو جنسی طور پر ہراساں اور تذلیل کرنے کے الزامات عائد کئے ۔ ان الزامات پر پروفیسر احتشام احمد نے فیروز بخت کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعہ 499 اور 500 کے تحت ہتک عزت کا مقدمہ دائر کردیا ۔ پروفیسر احتشام نے عدالت کو بتایا کہ سابق چانسلر نے یونیورسٹی کی داخلی شکایات کمیٹی کو جانچ میں ان کے خلاف کوئی ثبوت نہ ملنے کے باوجود ان کے خلاف توہین آمیز تبصرے کیے ۔ عدالتی فیصلے سے یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ ذاتی تنازع کی وجہ سے فیروز بخت کی جانب سے پروفیسر احتشام احمد پر یہ الزامات ان کی شبیہ داغدار کرنے کے لیے عائد کئے گئے ۔۔