متحدہ کسان مورچہ کسانوں کی تحریک کو کرے گا تیز، مانسون اجلاس میں پارلیمنٹ کے باہر دھرنا دیں گے کسان

   

کسان آندولن کو ایک بار پھر سے زندہ کرنے کے لئے مشترکہ کسان مورچہ نے اعلان کیا ہے کہ آئندہ مانسون کے اجلاس میں کسان پارلیمنٹ کے باہر احتجاج کریں گے۔ اس کے تحت ، 200 کسان ہر روز سنگھو بارڈر سے پارلیمنٹ کی طرف مارچ کریں گے یہ پروگرام 22 جولائی سے شروع کیا جائے گا۔کسان رہنما ڈاکٹر درشن پال نے بتایا کہ زرعی قوانین کے معاملے پر احتجاج کرنے والے کسان تینوں بارڈروں پر لوٹنے لگے ہیں 22 جولائی سے ہر روز 200 کسانوں کا ایک گروپ پارلیمنٹ کی طرف مارچ کرے گا۔انہوں نے کہا کہ جہاں بھی پولیس ہمیں روکے گی ہم رک جائیں گے اور گرفتاری دیں گے درشن پال نے بتایا کہ کسان دھان کی بوائی کے بعد دوبارہ آنا شروع ہوگئے ہیں۔ ہم یوپی اور اتراکھنڈ میں بھی اپنا احتجاج تیز کردیں گے۔ آنے والے پروگرام کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ 26 تاریخ کو ہم لکھنؤ میں پریس کانفرنس کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ ہم ہر ریاست میں بی جے پی کی مخالفت کریں گے۔ آپ دیکھیں گے کہ اب کسانوں کی تحریک اور تیز ہوگی۔مرکزی حکومت ہم سے بات نہیں کر رہی ہے ، لہذا ہم اپنا احتجاج ہر گلی ، بلاک تک لے جائیں گے۔