متعصب میڈیا کے خلاف جمعیۃعلما کی پٹیشن: ہم چاہتے ہیں کہ سپریم کورٹ اس معاملے میں اپنا حتمی فیصلہ صادرکرے:مولانا ارشدمدنی

   

کروناوائرس کو مرکز نظام الدین سے جوڑ کر تبلیغی جماعت سے وابستہ لوگوں اور بالخصوص مسلمانوں کی شبیہ کو داغدار کرنے اور ہندوؤں اورمسلمانوں کے درمیان منافرت پھیلانے کی دانستہ سازش کرنے والے ٹی وی چینلوں اور پرنٹ میڈیاکے خلاف مولانا سید ارشدمدنی صدرجمعیۃ علماء ہند کی ہدایت پر سپریم کورٹ میں داخل پٹیشن پر کل سپریم کورٹ آف انڈیا میں سماعت عمل میں آئی جس کے دوران چیف جسٹس آف انڈیا نے حکومت کی نمائندگی کرنے والے سالیسٹر جنر ل آف انڈیا ایڈوکیٹ تشار مہتہ کی جانب سے دو ہفتوں کاوقت طلب کرنے پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے ناراضگی ظاہر کی اور انہیں بتایا کہ عدالتی ریکارڈ کے مطابق آپ پہلے ہی چار مرتبہ وقت طلب کرچکے ہیں جس پر سالیسٹر جنرل آف انڈیا نے کہا کہ انہیں مزید دستاویزات داخل کرنی ہیں جس کے لئے وقت درکار ہے۔چیف جسٹس آف انڈیا وی رمنا کی سربراہی والی تین رکنی بیچ جس میں جسٹس سریہ کانت اور جسٹس اے ایس بوپنا شامل ہیں کوسالسٹرجنرل تشارمہتہ نے مطلع کیاکہ حکومت نے اس ضمن میں کچھ پیش رفت کی ہے اور قوانین مرتب کیئے ہیں جس پر چیف جسٹس آف انڈیا نے کہا کہ اگر آپ یو ٹیوب چینل دیکھو گے تو آپ کو پتہ چلے گا کہ ایک منٹ میں کیا کیا دکھایا جاتا ہے، کیا آپ کے پاس ایسا کوئی لائحہ عمل ہے جو اس پر روک لگا سکے یا اس کی فوری جانچ کرسکے؟