جمعیۃ العلماء اور دوسروں کو ہائی کورٹ سے رجوع ہونے کی ہدایت، کیرالا ہائی کورٹ میں 5 مئی کو سماعت
حیدرآباد۔/3 مئی، ( سیاست نیوز) سپریم کورٹ نے متنازعہ فلم’ دی کیرالا اسٹوری‘ کے خلاف جمعیۃ العلمائے ہند کی درخواست کو قبول کرنے سے انکار کیا اور درخواست گذاروں کو ہائی کورٹ سے رجوع ہونے کا مشورہ دیا۔ سپریم کورٹ نے کیرالا ہائی کورٹ سے درخواست کی کہ اگر اس طرح کی درخواستیں داخل کی جائیں تو ان کی عاجلانہ سماعت کرے۔ سپریم کورٹ نے جمعیۃ العلمائے ہند کی اس درخواست کو نامنظور کردیا جس میں فلم میکرس کو ڈسکلیمر لگانے کی ہدایت کی درخواست کی گئی کہ کہانی فرضی ہے۔ چیف جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ نے ہنگامی طور پر پیش کی گئی درخواست کی سماعت کرتے ہوئے جمعیۃ العلمائے ہند اور دیگر درخواست گذاروں کو مشورہ دیا کہ وہ ہائی کورٹ سے رجوع ہوں اور دستور کی دفعہ 226 کے تحت درخواست داخل کریں۔ چیف جسٹس نے ریمارک کیا کہ ہائی کورٹس میں تجربہ کار ججس موجود ہیں آپ وہاں کیوں نہیں جاتے۔ ہم سپریم کورٹ کو سوپر 226 کورٹ میں کیوں تبدیل کریں۔ جمعیۃ العلمائے ہند کی جانب سے ویرندا گورور ایڈوکیٹ نے پیروی کی۔ سپریم کورٹ نے درخواست گذاروں کو اختیار دیا ہے کہ وہ اس مسئلہ کو ہائی کورٹ سے رجوع کریں۔ عدالت نے کیرالا ہائی کورٹ کو اس طرح کی درخواستوں کی عاجلانہ یکسوئی کا مشورہ دیا۔ درخواست گذاروں نے سپریم کورٹ کے فیصلہ کی نقل دیئے جانے کی درخواست کی تاکہ وہ دوپہر تک ہائی کورٹ سے رجوع ہوسکیں کیونکہ فلم 5 مئی سے ریلیز ہورہی ہے۔ سینئر ایڈوکیٹ ہریش سالوے نے فلم پروڈیوسرس کی جانب سے پیش ہوتے ہوئے کہا کہ وہ کسی طرح کے ڈسکلیمر کیلئے تیار نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فی الوقت یہ دعویٰ ہے کہ حقائق کی بنیاد پر فلم تیار کی گئی ہے۔ درخواست گذاروں کا کہنا تھا کہ فلم کی کہانی کے بارے میں پروڈیوسرس کو کہانی کے فرضی ہونے کا دعویٰ پیش کرنا چاہیئے۔ جمعیۃ العلمائے ہند نے عدالت کو بتایا کہ کیرالا میں 32 ہزار لڑکیوں کو جبراً تبدیلی مذہب کے ذریعہ داعش میں شامل کرنے کا پروپگنڈہ کیا جارہا ہے۔ سپریم کورٹ نے فلم کی نمائش پر روک لگانے سے متعلق درخواستوں پر غور کرنے سے انکار کردیا۔ ہریش سالوے نے کہاکہ کیرالا ہائی کورٹ پہلے ہی اس معاملہ پر اپنا موقف پیش کرچکا ہے۔ انہوں نے ڈسکلیمر داخل کرنے کی تجویز سے اتفاق نہیں کیا۔ جمعیۃ العلمائے ہند نے فلم کی نمائش پر روک لگانے کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ فلم کی ریلیز سے ملک میں سماج کے مختلف طبقات کے درمیان نفرت اور دشمنی پیدا ہونے کا امکان ہے۔ یہ فلم مسلم کمیونٹی کی توہین کرتی ہے اور مسلمانوں کے خلاف نفرت کے جذبات کو بھڑکانے کا سبب بنے گی۔ فلم کے ٹریلر کو انٹرنیٹ سے ہٹانے کی درخواست کی گئی۔ واضح رہے کہ جسٹس کے ایم جوزف اور جسٹس بی وی ناگا رتنا پر مشتمل ڈیویژن بنچ پر کل ایڈوکیٹ نظام پاشاہ کی درخواست کی سماعت کی گئی تھی۔ عدالت نے اسے چیف جسٹس آف انڈیا کے روبرو پیش کرنے کا مشورہ دیا تھا۔ کیرالا ہائی کورٹ میں فلم کے خلاف درخواست دائر کی گئی جس پر ہائی کورٹ نے سنٹرل بورڈ آف فلم سرٹیفکیشن اور فلم کے پروڈیوسرس سے جواب طلب کیا ہے۔ کیرالا ہائی کورٹ میں 5 مئی کو سماعت ہوگی جبکہ اسی دن فلم ریلیز کی جارہی ہے۔ر