مجالس مقامی ایم ایل سی الیکشن کے بعد نامزد عہدوں پر تقررات کا امکان

   

ناراض قائدین سے چیف منسٹر کا ربط، کریم نگر، میدک اور کھمم میں پارٹی کی کامیابی کیلئے توجہ مرکوز
حیدرآباد۔/30 نومبر، ( سیاست نیوز) چیف منسٹرکے چندر شیکھر راؤ نے مجالس مقامی زمرہ کی 6 ایم ایل سی نشستوں پر پارٹی امیدواروں کی کامیابی کو یقینی بنانے کیلئے توجہ مرکوز کی ہے۔ کھمم، میدک اور کریم نگر میں پارٹی قائدین میں ناراضگی کو دیکھتے ہوئے چیف منسٹر نے انتخابات کے بعد نامزد سرکاری عہدوں پر تقررات کا تیقن دیا ہے۔ چیف منسٹر کے طور پر دوسری میعاد میں کے سی آر نے نامزد عہدوں کو پُر کرنے میں کوئی خاص دلچسپی نہیں دکھائی جس کے سبب پارٹی قائدین اور کارکنوں میں ناراضگی پائی جاتی ہے۔ پہلی میعاد میں جن عہدوں کو پُر کیا گیا تھا ان کی میعاد مکمل ہوگئی لیکن ان پر دوبارہ تقررات نہیں کئے گئے۔ چیف منسٹر جب کبھی ناراض قائدین کو منانے کی کوشش کرتے تو نامزد عہدوں پر تقررات کا وعدہ کیا جاتا۔ عہدوں سے محروم قائدین کی ناراضگی اس وقت عروج پر تھی جب پارٹی نے ایم ایل اے کوٹہ کی 6 اور مجالس مقامی کی 12 ایم ایل سی نشستوں کے امیدواروں میں کئی سینئر قائدین کو نظرانداز کردیا جن سے کے سی آر نے ایم ایل سی نشست کا وعدہ کیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ کریم نگر، میدک اور کھمم میں مجالس مقامی کے نمائندوں میں ناراضگی واضح طور پر دکھائی دے رہی ہے۔ ان تین اضلاع میں دو نشستوں پر کانگریس مقابلہ میں ہے جبکہ کریم نگر میں ٹی آر ایس کے باغی امیدوار نے قائدین کیلئے الجھن پیدا کردی ہے۔ ایم ایل سی نشستوں میں بعض ایسے افراد کو نمائندگی دی گئی جو حال ہی میں دیگر پارٹیوں سے ٹی آر ایس میں شامل ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ کلکٹر سدی پیٹ کے عہدہ سے استعفی دینے والے وینکٹ رام ریڈی کو استعفی کے تین گھنٹوں میں ایم ایل سی امیدوار بنایا گیا اور وہ ایم ایل اے کوٹہ میں منتخب ہوچکے ہیں۔ باوثوق ذرائع کے مطابق چیف منسٹر نے ریاستی وزراء کے ذریعہ ناراض قائدین سے ربط قائم کیا اور انہیں تیقن دیا کہ 10 ڈسمبر کو 6 ایم ایل سی نشستوں کے الیکشن کے بعد نامزدگی کا آغاز کیا جائے گا۔ بتایا جاتا ہے کہ وزراء نے ناراض قائدین کی چیف منسٹر سے فون پر بات کرائی تاکہ انہیں مجالس مقامی ایم ایل سی نشستوں کے چناؤ کیلئے سرگرم کیا جاسکے۔ ریاست میں کئی اہم کارپوریشن اور بورڈز گزشتہ تین تا چار برسوں سے مخلوعہ ہیں اور وقفہ وقفہ سے چیف منسٹر یا پھر کے ٹی آر کی جانب سے تقررات کا تیقن دیا جاتا رہا ہے۔ اس مرتبہ ایم ایل سی نشستوں پر کامیابی کیلئے نامزد عہدوں کا تیقن کس حد تک کارگر ثابت ہوگا اس کا اندازہ نتائج میں منظر عام پر آئے گا۔ ر