مجالس مقامی چناؤ، امیدواروں کا انتخاب کانگریس قیادت کیلئے ایک چیالنج

   

باغی امیدواروں کو مقابلہ سے روکنے کی مساعی، نامزد سرکاری عہدوں کا وعدہ

حیدرآباد۔ یکم؍ فروری (سیاست نیوز) مجالس مقامی انتخابات میں ضلعی سطح پر گروہ بندیوں کے نتیجہ میں کانگریس پارٹی کو امیدواروں کے انتخاب میں دشواری کا سامنا ہے۔ پارٹی نے امیدواروں کو قطعیت دینے کے لئے پارلیمانی حلقہ جات کی سطح پر وزراء کو انچارج مقرر کیا ہے۔ اس کے علاہ اسکریننگ کمیٹی تشکیل دی گئی۔ برسر اقتدار پارٹی کے لئے ہر ضلع میں ٹکٹ کے خواہشمندوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ پرچہ نامزدگی سے دستبرداری تک امیدواروں کو بی فارم کی اجرائی کی گنجائش ہے لہذا ٹکٹ کی امید میں ہر وارڈ سے کئی دعویداروں نے پرچہ نامزدگی داخل کردیا ہے۔ اے آئی سی سی انچارج میناکشی نٹراجن نے صدر پردیش کانگریس مہیش کمار گوڑ کے ساتھ ریاستی وزراء اور ضلعی صدور سے مشاورت کرتے ہوئے امیدواروں کے ناموں کو قطعیت دینے کے ضمن میں تجاویز پیش کیں۔ بتایا جاتا ہے کہ دیگر پارٹیوں کے مقابلے کانگریس سے زائد پرچہ جات نامزدگی کا ادخال نتائج پر اثر انداز ہوسکتا ہے۔ پارٹی قیادت کے لئے امیدواروں کا انتخاب کرنا کسی چیالنج سے کم نہیں۔ بیشتر اضلاع میں اس بات کا اندیشہ ہے کہ باغی امیدواروں کی صورت میں ہر وارڈ سے کانگریس کے ناراض قائدین میدان میں ہوں گے۔ 116 میونسپلٹیز کے تحت 2996 بلدی وارڈس ہیں جن پر 11 فروری کو رائے دہی ہوگی۔ مہیش کمار گوڑ نے واضح کردیا کہ سروے کی بنیاد پر امیدواروں کو بی فارم حوالے کئے جائیں گے اور دیگر خواہشمندوں کو اپنے پرچہ جات سے دستبرداری اختیار کرنی ہوگی۔ 3 فروری پرچہ نامزدگی واپس لینے کی آخری تاریخ ہے لہذا پارٹی نے ناراض قائدین کو منانے کی کوششوں کو تیز کردیا ہے۔ انچارج وزراء کوبی فارم کی تقسیم کی ذمہ داری دی گئی تاکہ ضلع کانگریس صدر یا مقامی قائدین سے ناراض افراد سے نمٹا جاسکے۔ پارٹی نے ٹکٹ سے محروم قائدین کو تیقن دیا ہے کہ الیکشن کے بعد انہیں سرکاری نامزد عہدوں پر فائز کیا جائے گا۔ نامزد سرکاری عہدوں کے لئے مجالس مقامی کے انتخابات میں پارٹی کے بہتر مظاہرہ کو بطور شرط رکھا گیا ہے۔ اس طرح ہر بلدی وارڈ میں قائدین اور کارکنوں کو متحرک رکھا جاسکتا ہے۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے بھی وزراء سے کہا ہے کہ وہ ناراض سرگرمیوں کو ختم کرنے پر توجہ مرکوز کریں۔ 1