عوام کی زندگی کا تحفظ اولین ترجیح، نائیٹ کرفیو کے نفاذ کا حوالہ
حیدرآباد۔ کانگریس پارٹی نے اسٹیٹ الیکشن کمشنر پارتھا سارتھی کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے مجالس مقامی کے انتخابات ملتوی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ الیکشن کمیشن کوآرڈینیشن کمیٹی کے صدرنشین ایم ششی دھر ریڈی اور کنوینر جی نرنجن نے اپنے مکتوب میں کہا ہے کہ کورونا کیسس میں اضافہ کے پیش نظر حکومت نے ریاست میں نائیٹ کرفیو نافذ کیا ہے۔ عوامی زندگی کے تحفظ کیلئے ورنگل اور کھمم کارپوریشنوں کے علاوہ 5 دیگر میونسپلٹیز کے انتخابات ملتوی کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ نائیٹ کرفیو کے نفاذ سے انتخابی سرگرمیاں جاری رکھنا دشوار ہوجائے گا اور انتخابی مہم کی صورت میں عوامی زندگی کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے سیاسی جماعتوں کی رائے نظرانداز کرتے ہوئے انتخابات کا فیصلہ کیا اور 15 اپریل کو شیڈول جاری کرتے ہوئے 30 اپریل کو رائے دہی مقرر کی ہے۔ مکتوب میں کہا گیا ہے کہ تلنگانہ ہائی کورٹ نے اگرچہ انتخابی عمل میں مداخلت سے انکار کیا ہے تاہم الیکشن کمیشن اور ریاستی حکومت کو اس مسئلہ کا جائزہ لینے کی ہدایت دی ہے۔ مکتوب میں کہا گیا کہ کورونا کی صورتحال پر ہائی کورٹ نے سخت برہمی کا اظہار کیا اور حکومت کو تحدیدات عائد کرنے کی ہدایت دی۔ ہائی کورٹ کی مداخلت کے بعد ہی نائیٹ کرفیو نافذ کیا گیا ہے۔ ششی دھر ریڈی اور نرنجن نے کہا کہ ناگرجنا ساگر کی انتخابی مہم میں حصہ لینے کے بعد چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کے علاوہ ٹی آر ایس کے امیدوار اور دیگر کئی قائدین کورونا سے متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے الیکشن کمیشن سے اپیل کی کہ وہ موجودہ صورتحال میں انتخابات کے التواء کا اعلان کرے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی مہم میں 3000 سے زائد عملہ شامل رہے گا اور کمیشن ان کی زندگی کو خطرہ میں نہیں ڈال سکتا۔ انتخابی مہم جس کا آغاز ہونے کو ہے سینکڑوں افراد ریالیوں اور جلسوں میں شرکت کریں گے جس سے کورونا کی صورتحال مزید سنگین ہوسکتی ہے۔