ہوانا ۔ 12 جنوری (ایجنسیز) وینزویلا کے رہنما کے اغوا کے بعد امریکہ کیوبا کو بھی دھمکیاں دے رہا ہے۔ ٹرمپ نے وزیر خارجہ مارکو روبیو کو مذاقاً کیوبا کا صدر مقرر کرنے کی بھی بات کہی، جبکہ ہوانا کا کہنا ہے کہ واشنگٹن کا رویہ عالمی امن کے لیے خطرہ ہے۔ کیوبا کے وزیر خارجہ برونو روڈریگز نے اتوار کے روز ہوانا کو نشانہ بنانے والی بڑھتی امریکی دھمکیوں کے درمیان مغربی نصف کرہ میں اس کے مجرمانہ رویے کے لیے واشنگٹن پر نکتہ چینی کی۔ انہوں نے سوشل میڈیا ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ان دعوؤں کو مسترد کیا کہ وینزویلا سکیورٹی سروسز کے لیے کیوبا کو ادائیگی کرتا رہا ہے۔ روڈریگز نے اپنی پوسٹ میں کیوبا کے اس حق پر بھی زور دیا کہ وہ کسی بھی ذریعہ سے تیل خرید سکتا ہے۔ واضح رہے کہ ٹرمپ نے ہفتہ کے روز اس دعوے کی بنیاد پر کہ ہوانا نے وینزویلا کے سابق صدر نکولس مادورو کی مدد کی تھی، اس جزیرے کو تمام رقم اور تیل سے منقطع کرنے کی دھمکی دی ہے۔ روڈریگز نے لکھا کہ کیوبا نے کبھی بھی کسی ملک کو سکیورٹی خدمات کے بدلے مالی معاوضہ نہیں لیا اور امریکہ کو ایسے ممالک کی اندرونی معاملات میں مداخلت، بلیک میلنگ اور فوجی دباؤ کے لیے ذمہ دار ٹھہرایا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ ایک بے قابو اور جرم پر مبنی ریاست کے طور پر دنیا اور خاص طور پر نصف کرہ مغرب میں امن و سلامتی کو خطرہ پہنچا رہا ہے۔
