سپریم کورٹ کا حکم
نئی دہلی: سپریم کورٹ نے سیاست کو مجرمانہ رنگ سے محفوظ رکھنے کے لئے اپنی سابقہ رہنما ہدایات میں ترمیم کرتے ہوئے منگل کو حکم دیا کہ امیدواروں کے نام کا اعلان ہونے کے 48گھنٹے کے اندر تمام سیاسی جماعتوں کو ان سے متعلق معلومات شیئر کرنی ہوگی۔ جج روہنگٹن نریمن اور جج بی آر گوئی پر مشتمل بنچ نے اس سلسلہ میں اپنے 13فروری 2020کے فیصلے میں ترمیم کی۔ اپنے سابقہ فیصلے میں عدالت نے سیاسی جماعتوں کو اپنے امیدواروں کے مجرمانہ ریکارڈ کا انکشاف کرنے کے لئے کم از کم دو دن اور زیادہ سے زیادہ دو ہفتے کا وقت دیا تھا لیکن آج اس میں ترمیم کرکے یہ مدت زیادہ سے زیادہ 48گھنٹے کردی گئی ہے۔ عدالت نے 8 پارٹیوں پر جرمانہ عائد کیاکہ انھوں نے بہار اسمبلی چناؤ میں اپنے امیدواروں سے متعلق مجرمانہ جانکاری کا انکشاف نہیں کیا۔ بی جے پی، کانگریس، آر جے ڈی، جے ڈی یو، سی پی آئی اور لوک جن شکتی پارٹی کو ایک، ایک لاکھ روپئے کا جرمانہ عائد کیا گیا کیوں کہ ان پارٹیوں نے عدالتی احکامات کی جزوی تعمیل کی۔ سی پی آئی (ایم) اور این سی پی کو حکمنامہ کی مکمل عدم تعمیل کی پاداش میں 5 ، 5 لاکھ روپئے کا جرمانہ عائد کیا گیا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں ترمیم وکیل برجیش مشرا کی طرف سے دائر توہین عدالت کی عرضی کی بنیاد پرکی ہے جس میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ سیاسی جماعتیں گزشتہ برس کی رہنما ہدایات پر عمل نہیں کررہی ہیں۔ بنچ نے اس معاملہ میں الیکشن کمیشن اور سینئر وکیل کے وی وشوناتھن کے وسیع دلائل سنے اور فیصلہ محفوظ کیا تھا۔ عدالت کا اہم نکتہ رہا کہ 2020کے فیصلے پر مکمل طور پر عمل نہ کرنے والی سیاسی جماعتوں سے کیسے نمٹا جائے اور انہیں کیا سزا دی جائے ؟ عدالت عظمی کے اس فیصلے کا مقصد سیاست میں جرائم کو کم کرنا ہے ۔