مجلس کا یو ٹرن ، مسلمانوں اور سوشیل میڈیا پر موضوع بحث

   

تبدیلی لہر میں شامل ہونے کی کوشش، کانگریس قائدین کو مفاہمت کا یقین نہیں
حیدرآباد ۔یکم جون (سیاست نیوز) تلنگانہ میں اسمبلی انتخابات کو اگرچہ پانچ ماہ باقی ہیں لیکن کرناٹک کے نتائج کے بعد تلنگانہ میں انتخابی ماحول گرم ہوچکا ہے ۔ کرناٹک میں بی جے پی کو زوال اور کانگریس حکومت کی تشکیل کے بعد تلنگانہ کی اقلیتیں بھی اپنی حکمت عملی طئے کرنے میں مصروف دکھائی دے رہی ہیں۔ بی آر ایس کی گزشتہ 9 برسوں سے حلیف جماعت مجلس کے موقف میں اچانک یو ٹرن نے سوشیل میڈیا اور دیگر پلیٹ فارمس پر عوام کے درمیان ایک نئی بحث کو چھیڑ دیا ہے۔ صدر مجلس اسد اویسی نے کے سی آر حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے مسلمانوں کے ساتھ ناانصافی کی شکایت کی ہے۔ انہوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ مسلمانوں کی تائید کی اہمیت کو نہیں سمجھا گیا تو آئندہ چناؤ میں خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ صدر مجلس نے حیدرآباد کے روایتی حلقوں کے علاوہ اضلاع کے مسلم آبادی والے علاقوں سے مقابلہ کا اشارہ دیا ہے۔ گزشتہ 9 برسوں میں یہ پہلا موقع ہے کہ جب صدر مجلس نے عوام کے درمیان مخالف بی آر ایس موقف اختیار کیا۔ سکریٹریٹ کی مساجد کی شہادت، اسلامک سنٹر کی عدم تعمیر، یونیورسٹیز میں مسلم وائس چانسلرس کی کمی ، پبلک سرویس کمیشن میں مسلم نمائندہ کی عدم شمولیت، پرانے شہر میں میٹرو ٹرین اور دیگر مسائل کا حوالہ دیتے ہوئے کے سی آر حکومت کو انتخابات سے عین قبل انتباہ دیتے ہوئے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ سوشیل میڈیا اور پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں مجلس کے اچانک یو ٹرن پر بحث کی جارہی ہے۔ سوشیل میڈیا پر سرگرم مسلمان جن میں زیادہ تر نوجوان اور تعلیم یافتہ طبقہ شامل ہیں ، ان کا یہ احساس ہے کہ مجلس کا اچانک یو ٹرن سوچی سمجھی حکمت عملی کا حصہ ہوسکتا ہے۔ بیشتر افراد کا احساس ہے کہ کسی ٹھوس ایجنڈہ کے بغیر اچانک حکومت کی مخالفت سے کے سی آر کے پاس مسلمانوں کا اعتبار متزلزل ہوجائے گا۔ جس انداز میں حکومت کی مخالفت شروع کی گئی ، اسی کی ٹائمنگ پر بھی بحث کی جانے لگی ہے۔ 9 برسوں تک کے سی آر اور ان کی حکومت کی مکمل تائید کی گئی اور یہاں تک کہا گیا کہ آخری سانس تک کے سی آر کے ساتھ رہیں گے لیکن اچانک حکومت کی مخالفت اور اقلیتوں کو درپیش مسائل کو پیش کرنے عوام کے نزدیک مسلمانوں میں اپنی گرفت کو برقرار رکھنے کی کوشش ہے۔ انتخابی امور کے ماہر کا کہنا ہے کہ مجلس کا یو ٹرن اس کی مجبوری ہے کیونکہ کرناٹک نتیجہ کے بعد عام مسلمانوں میں تبدیلی کی لہر دیکھی جارہی ہے۔ ان حالات میں اگر مجلس بی آر ایس حکومت کے ساتھ رہتی ہے تو وہ مسلمانوں کے فیصلہ کی مخالفت کے مترادف ہوگا۔ لہذا مسلمانوں کے جذبات سے خود کو ہم آہنگ کرتے ہوئے مجلس دوبارہ قیادت کے موقف میں برقرار رہنا چاہتی ہے۔ سوشیل میڈیا پلیٹ فارم پر اسد اویسی کی تقاریر پر متضاد ردعمل دیکھا جارہا ہے۔ پرانے شہر کے مسلمان اور خود مجلس کے قائدین بھی اس بات پر حیرت زدہ ہیں کہ قیادت نے کسی سے مشاورت کے بغیر ہی اچانک بی آر ایس کی مخالفت کیوں شروع کردی۔ دوسری طرف کانگریس پارٹی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ کانگریس قائدین مجلس کے یو ٹرن پر اظہار خیال سے گریز کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ آئندہ اسمبلی انتخابات میں مجلس کے ساتھ کسی بھی مفاہمت سے راہول گاندھی نے انکار کیا تھا۔ ایسے میں ریاستی سطح پر کوئی بھی قائد مخالف مجلس موقف کا خیرمقدم کرنے کی جرأت نہیں کرسکتا۔ر