مجلس کو بغاوت کا خطرہ ، چارمینار اور یاقوت پورہ میں ناراض سرگرمیاں

   

ممتاز احمد خاں کی حامیوں سے مشاورت،چارمینارا وریاقوت پورہ کے امیدواروں کا انتخاب اسد اویسی کیلئے ایک چیلنج۔ صورتحال پر کانگریس کی نظر
حیدرآباد ۔26۔اکتوبر (سیاست نیوز) پرانے شہر کی سیاست پر کنٹرول کا دعویٰ کرنے والی مجلس پر مجوزہ اسمبلی انتخابات میں بغاوت کا خطرہ منڈلانے لگا ہے ۔ پارٹی قیادت نے 7 اسمبلی حلقہ جات میں دو حلقوں میں امیدواروں کی تبدیلی اور نئے چہروں کو متعارف کرنے کا جو فیصلہ کیا ہے، وہ پارٹی کیلئے مہنگا ثابت ہوسکتا ہے ۔ مجلسی قیادت نے سوائے تین حلقوں کے دیگر چار حلقوں کے امیدواروں سے متعلق کوئی واضح اشارہ نہیں دیا ہے جبکہ چارمینار اور یاقوت پورہ کے موجودہ ارکان اسمبلی کو سبکدوشی کی اطلاع دے دی گئی جس کے بعد دونوں حلقہ جات میں ناراض سرگرمیوں کا آغاز ہوچکا ہے ۔ باوثوق ذرائع کے مطابق صدر مجلس نے چندرائن گٹہ ، ملک پیٹ اور کاروان کے موجودہ ارکان اسمبلی کو دوبارہ ٹکٹ دینے کا فیصلہ کرکے تینوں کو انتخابی مہم میں سرگرم ہونے کی ہدایت دی ہے ۔ بہادر پورہ و نامپلی کے امیدواروں کے بارے میں ابھی صورتحال غیر واضح ہے۔ بہادر پورہ میں موجودہ رکن اسمبلی معظم خاں کی خاموشی کے سبب پارٹی کیڈر کو اندیشہ ہے کہ کہیں بہادر پورہ میں قیادت نئے چہرہ کو متعارف کرے گی۔ معظم خاں نے انتخابی مہم کا آغاز نہیں کیا کیونکہ ذرائع کے مطابق انہیں قیادت نے ہری جھنڈی نہیں دکھائی ہے۔ نامپلی حلقہ میں مجلس کو کانگریس امیدوار فیروز خاں سے سخت مقابلہ درپیش ہے اور مجلسی قیادت نامپلی امیدوار پر کوئی فیصلہ کرنے سے قاصر ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ نامپلی کے پارٹی قائدین اور کیڈر دو حصوں میں منقسم ہوچکے ہیں۔ ایک گروپ موجودہ رکن اسمبلی جعفر حسین معراج کی برقراری کا حامی ہے جبکہ دوسرے گروپ سے سابق میئر ماجد حسین کی تائید کی جارہی ہے ۔ زمینی سطح پر صورتحال کا جائزہ لینے مجلسی قیادت نے بعض ماہرین کو میدان میں اتارا ہے اور قطعی فیصلہ سروے رپورٹ کی بنیاد پر ہوگا۔ فی الوقت دونوں دعویداروں کو مشترکہ طور پر انتخابی مہم چلانے کی ہدایت دی گئی ہے۔ چارمینار اور یاقوت پورہ امیدواروں کے انتخاب کے مسئلہ پر پارٹی کو موزوں امیدواروں کی تلاش ہے ۔ قیادت نے دونوں حلقوں میں نوجوانوں کو موقع دینے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت کئی موجودہ کارپوریٹرس نے دعویداری پیش کی ہے۔ چارمینار و یاقوت پورہ میں کارپوریٹرس و پارٹی کیڈر میں بے چینی ہے اور وہ غیر مقامی افراد کی بجائے مقامی افراد کو امیدوار بنانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ یاقوت پورہ میں احمد پاشاہ قادری سے پارٹی کو کوئی خطرہ نہیں ہے جبکہ چارمینار میں ممتاز احمد خاں نے حامیوں سے مشاورت کے ذریعہ انتخابات میں حصہ لینے کا اشارہ دیا ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ ممتاز خاں چارمینار کے بجائے یاقوت پورہ سے مقابلہ کی تیاری کر رہے ہیں اور اپنے کیڈر و حامیوں سے ربط میں ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ کانگریس دونوں اسمبلی حلقہ جات میں مجلس کی ناراض سرگرمیوں پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ مجلس سے بغاوت پر کانگریس ممتاز احمد خاں کو ٹکٹ کی پیشکش کرسکتی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ممتاز خاں پرانے شہر کے تجارتی گھرانے کے فرد کو چارمینار سے مقابلہ کی ترغیب دے رہے ہیں۔ دونوں حلقہ جات میں مجلسی کیڈر کی بے چینی کو دیکھتے ہوئے صدر مجلس نے امیدواروں کے انتخاب کے عمل کو موخر کردیا ہے ۔ وہ پہلے ناراض سرگرمیوں پر قابو پانے کوشش کریں گے جس کے بعد امیدواروں کا اعلان کیا جائے گا ۔ ممتاز خاں کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ مجلس سے دوبارہ ٹکٹ حاصل کرنے وہ قیادت سے بات چیت کا منصوبہ رکھتے ہیں تاکہ کوئی فیصلہ کرنے سے قبل ضابطہ کی تکمیل ہوجائے۔ پرانے شہر میں تازہ سیاسی صورتحال پر عوام کی گہری نظر ہے اور امید کی جارہی ہے کہ دونوں اسمبلی حلقہ جات کا الیکشن انتہائی دلچسپ اور مجلس کیلئے چیلنج رہے گا۔