مجلسی حلقہ میں ترقیاتی فنڈس اکبر اویسی سب سے کم، کوثر محی الدین سب سے زیادہ خرچ کیا ترقیاتی کام عین انتخابات سے قبل کیوں ہوتے ہیں ؟

   

سات حلقوں میں 10 برسوں کے دوران کتنے جونیر اور ڈگری کالجس کا قیام ؟ عوام کا سوال

حیدرآباد ۔ 25 ۔ اکٹوبر : ( سیاست نیوز ) : ضلع حیدرآباد میں 15 اسمبلی حلقے شامل ہیں۔ ان حلقوں میں سے سات حلقوں کی نمائندگی ایم آئی ایم کے نمائندے کرتے ہیں ۔ سات حلقوں پر بی آر ایس اور ایک حلقہ پر بی جے پی کا نمائندہ ہے ۔ چنانچہ ارکان اسمبلی اور ارکان قانون ساز کونسل کے لیے اپنے اپنے حلقوں میں ترقیاتی کاموں کی انجام دہی کے لیے ویسے تو کروڑہا روپئے مختص کئے جاتے ہیں لیکن ان میں حلقہ کی ترقی سے متعلق پروگرام ( سی ڈی پی ) فنڈ نمایاں ہوتا ہے ۔ ویسے بھی ارکان اسمبلی کی کارکردگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ 5 سال کے لیے منتخب ہونے کے بعد ان لوگوں ( ایم ایل ایز ) نے اپنے حلقہ میں کتنے ترقیاتی کام انجام دئیے جن سے عوام کو راحت ملی ہو ۔ حال ہی میں سنیل متونکرا کی ایک رپورٹ منظر عام پر آئی جس میں انہوں نے ایک طرح سے ضلع حیدرآباد کے 15 ارکان اسمبلی کی کارکردگی کی قلعی کھول کر رکھدی ہے ۔ ان ارکان اسمبلی کو اپنے حلقوں کی ترقی کے لیے 9 کروڑ روپئے کا فنڈ ( سی ڈی پی ) جاری کیا گیا تھا جن میں اسمبلی میں چندرائن گٹہ کی نمائندگی کرنے والے اکبر الدین اویسی نے 9 کروڑ روپئے میں سے صرف 5.66 کروڑ اور حلقہ اسمبلی ملک پیٹ کی نمائندگی کرنے والے احمد بن عبداللہ بلعلہ نے 9 کروڑ روپیوں میں سے 5.66 کروڑ روپئے خرچ کئے ۔ اس طرح مجلس ارکان اسمبلی میں سے سب سے کم سی ڈی پی فنڈس دونوں نے استعمال کیا جب کہ حلقہ اسمبلی چارمینار کی نمائندگی کرنے والے ممتاز احمد خاں اور حلقہ اسمبلی یاقوت پورہ کی نمائندگی کرنے والے احمد پاشاہ قادری نے 9 کروڑ سری ڈی پی فنڈس میں سے بالترتیب 5.67 کروڑ اور 5.96 کروڑ روپئے خرچ کئے ۔ بہادر پورہ کے رکن اسمبلی محمد معظم خاں نے 9 کروڑ روپئے میں سے 8.61 کروڑ روپئے ، نامپلی کے رکن اسمبلی جعفر حسین معراج نے 9 کروڑ روپئے میں سے 8.93 کروڑ روپئے ، اور حلقہ اسمبلی کاروان کی نمائندگی کرنے والے کوثر محی الدین نے 8.94 کروڑ روپئے اپنے حلقہ میں ترقیاتی کاموں کے لیے خرچ کر ڈالے ۔ واضح رہے کہ سی ڈی پی فنڈس میں ڈسٹرکٹ کلکٹران کا اہم کردار ہوتا ہے اور وہ سی پی ڈی اسکیم پر عمل آوری کے ذمہ دار ہوتے ہیں جب کہ چیف پلاننگ آفیسر ان کی اعانت کرتا ہے اور ایم ایل اے کی جانب سے سفارش کے اندرون 45 یوم ناموں کو منظوری دی جاتی ہے ۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ ضلع حیدرآباد کے 15 اسمبلی حلقوں میں سے حلقہ اسمبلی جوبلی ہلز کی بی آر ایس کے ایم گوپی ناتھ ، گوشہ محل سے بی جے پی کا راجہ سنگھ ، سکندرآباد سے ٹی پدما راؤ گوڑ ، حلقہ اسمبلی سے بی آر ایس کے کے وینکٹیش ، صنعت نگر سے تلاسانی سرینواس یادو ، خیریت آباد سے ڈی ناگیندر اور مشیر آباد سے بی آر ایس کے ہی ایم گوپال نمائندگی کرتے ہیں بلکہ حلقہ اسمبلی سکندرآباد کی 5 میعاد سے نمائندگی کرنے والے بی آر ایس لیڈر جی سائنا کا فروری 2023 میں دیہانت ہوا تھا ۔ اسی دوران بعض حلقوں میں چند نوجوانوں نے یہ سوال کیا کہ آخر عین انتخابات سے قبل ہی ترقیاتی کام کیوں کئے جاتے ہیں ۔ ان کا سنگ بنیاد کیوں رکھا جاتا ہے ؟ ایک اور سوال جو بہت زیادہ گردش کررہا ہے وہ یہ ہے کہ مجلسی ارکان اسمبلی نے اپنے سات حلقوں میں گذشتہ 10 برسوں کے دوران کتنے جونیر کالجس اور ڈگری کالجس قائم کروائے ؟ ۔