مجموعی گھریلو پیداوار میں ترقی یافتہ ممالک کے مقابلہ ہندوستان کا بہتر مظاہرہ

   

G-20 معیشت میں ہندوستان 6.7 فیصد کے ساتھ سرفہرست، انڈونیشیا دوسرے اور چین تیسرے نمبر پر
حیدرآباد۔ یکم؍ مارچ (سیاست نیوز) ہندوستان میں گھریلو پیداوار کی حوصلہ افزائی کی پالیسی کے نتیجہ میں ملک کی مجموعی گھریلو پیداوار میں اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ دو برسوں کے دوران G-20 ممالک کی معیشت پر سروے کیا گیا جس میں ہندوستان تیزی سے ترقی کرنے والی معیشت کے طور پر ابھرا ہے۔ 2026 میں ملک کی مجموعی گھریلو پیداوار (GDP) 6.2 فیصد درج کی گئی۔ مرکزی حکومت نے اندرون ملک پیداوار میں اضافے کے لئے مختلف اسکیمات کا آغاز کیا ہے۔ دفاعی شعبہ سے لے کر عوامی ضروریات کی تکمیل کے تمام ساز و سامان ہندوستان میں تیار کرنے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔ گھریلو پیداوار میں اضافے سے نہ صرف ملک کی معیشت کو استحکام حاصل ہوگا بلکہ نوجوانوں کے لئے روزگار کے اضافی مواقع پیدا ہوں گے۔ موافق اور آزادانہ صنعتی پالیسی کے نتیجہ میں G-20 معیشت میں 6.2 فیصد جی ڈی پی کے ساتھ ہندوستان سرفہرست ہے۔ 2025 میں مجموعی گھریلو پیداوار 6.2 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی جبکہ ایک سال میں 5 فیصد کا اضافہ درج کیا گیا۔ گھریلو صنعتوں کی حوصلہ افزائی کے نتیجہ میں ہندوستان کو اپنی ضروریات کی تکمیل کے لئے دیگر ممالک پر انحصار کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ جی ڈی پی ترقی میں انڈونیشیا 5 فیصد کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔ دو برسوں میں انڈونیشیا کی مجموعی گھریلو پیداوار میں یکسانیت دیکھی گئی جبکہ چین تیسرے نمبر پر رہا جہاں جی ڈی پی 5 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ ایک سال قبل چین میں مجموعی گھریلو پیداوار 4.4 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی اور ایک سال میں معمولی اضافہ ہوا ہے۔ جی ڈی پی کی شرح کے اعتبار سے سعودی عرب G-20 معیشت میں چوتھا مقام رکھتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ گزشتہ دو برسوں میں مجموعی گھریلو پیداوار میں اضافے کے بجائے معمولی کمی درج کی گئی۔ 2025 میں جی ڈی پی کی شرح 4 فیصد تھی جو 2026 میں گھٹ کر 3.9 فیصد ہوچکی ہے۔ ترکی 3.6 فیصد کے ساتھ 5 ویں نمبر پر ہے۔ ماہرین نے عالمی سطح پر جی ڈی پی کی شرح کا تقابل کرتے ہوئے پیش قیاسی کی ہے کہ ہندوستان اور دیگر ممالک جو مجموعی گھریلو پیداوار میں بہتر مظاہرہ کررہے ہیں ان کے لئے آئندہ بھی بہتر امکانات رہیں گے۔ 1