مجھے سیاست میں آنے سے کوئی نہیں روک سکتا : دختر صدام حسین

   

بغداد: عراق کے سابق صدر صدام حسین کی بیٹی رغد صدام حسین نے اپنے والد کی 18 ویں برسی کے موقع پر ان کی موت کے حوالے سے نئے انکشافات کیے ہیں۔العربیہ نیوز کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے رغد نے تصدیق کی کہ امریکی وکیل کلارک نے صدام حسین کی پھانسی کا فیصلہ جاری ہونے سے پہلے ہی انھیں اس فیصلہ سے آگاہ کر دیا تھا۔رغد کے مطابق ان کے والد نے اپنی یاد داشتوں میں تصدیق کی ہے کہ “النامق” خاندان ہی نے ان کے بارے میں اطلاع دی تھی۔رغد صدام حسین نے اعلان کیا کہ اگر عراقیوں نے ان کو چنا تو انھیں سیاست میں آنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔رغد کے نزدیک اس وقت پورا خطہ المیوں کی لپیٹ میں ہے۔ انھوں نے زور دیا کہ عراقیوں کو چاہیے کہ کسی بھی بیرونی ایجنڈے کو مسترد کر دیں اور فرقہ واریت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں۔رغد صدام حسین نے پیر کے روز اپنے والد کی یاد داشتوں کے بعض اقتباسات بھی جاری کیے جو صدام نے اپنی سزائے موت کا فیصلہ سنائے جانے کے بعد جیل میں تحریر کیے تھے۔رغد نے اپنے والد کی روزانہ کی یاد داشتوں میں سے ایک اقتباس نقل کیا جس میں صدام حسین لکھتے ہیں “مؤرخہ 5 نومبر2006 کی سماعت میں سزائے موت کا فیصلہ سنا دیا گیا۔ میرا خیال تھا کہ میں نے خود کو اس کیلئے تیار کیا ہوا ہے تاہم ایسا نہیں تھا۔ بہت سے لوگوں نے اس فیصلے پر اعتراض کیا جن میں انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی تھیں۔ مؤرخہ 26ڈسمبر2006 کی شام 7 بجے منعقد ہونے والی ایک پریس کانفرنس میں انھوں نے اعلان کیا کہ سزائے موت کی توثیق ہو چکی ہے اور اس پر 30 روز کے اندر عملدرآمد ہو گا”۔