مجھے شکست نہیں ہوئی ۔ میں استعفی نہیں دوں گی ۔ ممتابنرجی کا اعلان

,

   

بی جے پی نے نتیجہ کو لوٹ لیا ہے ۔ مرکزی حکومت کی الیکشن کمیشن سے ساز باز ۔ ترنمول سربراہ کی پریس کانفرنس ۔ مغربی بنگال میں غیر متوقع صورتحال

کولکتہ 5 مئی ( ایجنسیز ) چیف منسٹر مغربی بنگال و ترنمول کانگریس سربراہ ممتابنرجی نے اپنا استعفی پیش کرنے سے انکار کردیا ہے اور اس طرح بنگال میں ایک غیر متوقع بحران پیدا ہوگیا ہے ۔ اس صورتحال میں گورنر مسٹر آر این روی کو شائد کوئی فیصلہ کرنا پڑسکتا ہے ۔ ممتابنرجی کو کل اعلان کئے گئے انتخابی نتائج میں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا ۔ لگاتار تین معیادوں سے اقتدار پر رہنے کے بعد ترنمول کانگریس کو شکست ہوئی تھی اور ممتابنرجی خود بھی اپنے حلقہ انتخاب بھوانی پور سے ہار گئی تھیں۔ ممتابنرجی نے آج کولکتہ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں انتخابات میں شکست نہیں ہوئی ہے اور بی جے پی نے نتیجہ کو لوٹ لیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ’’ مجھے شکست نہیں ہوئی ہے ۔ اس لئے میں راج بھون نہیں جا رہی ہوں ۔ میں استعفی پیش نہیں کر رہی ہوں ‘‘ ۔ واضح رہے کہ کل شام بھی ممتابنرجی نے اظہار خیال کرتے ہوئے بی جے پی پر الزام عائد کیا تھا کہ اس نے الیکشن کمیشن کی مدد سے 100 نشستوں کی لوٹ مچائی ہے ۔ انہوں نے الیکشن کمیشن کو بی جے پی کا کمیشن قرار دیا تھا ۔ انہوں نے آج مرکزی حکومت اور الیکشن کمیشن پر ایک دوسرے سے ساز باز کا الزام عائد کیا اور کہا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے بیہودہ کھیل کھیلا جا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ترنمول کانگریس کی حقیقی مخالف بی جے پی نہیں بلکہ الیکشن کمیشن ہے ۔ انہوں نے مرکزی حکومت پر الزام عائد کیا کہ اس نے انتخابی عمل میں راست مداخلت کی ہے ۔ اسی طرح سے مہارشاٹرا ‘ ہریانہ اور بہار میں انتخابات کو چوری کیا گیا تھا اور اب بنگال میں بھی وہی کچھ کیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اس طرح سے کام نہیں کرتی ۔ جب عدلیہ موجود نہ ہو ‘ الیکشن کمیشن جانبدار ہو اور حکومت صرف ایک پارٹی کی حکومت چاہتی ہو تو دنیا کیلئے غلط پیام جا رہا ہے ۔ ممتابنرجی نے کہا کہ کل ووٹوں کی گنتی کے دوران ان پر ایک مقام پر حملہ کیا گیا تھا اسی وجہ سے وہ کل میڈیا میں پیش نہیں ہوسکیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے پیٹ میں اور پیٹھ پر لات ماری گئی تھی ۔ سی سی ٹی وی کیمرے بند تھے ۔ انہیں کاؤنٹنگ مرکز سے باہر ڈھکیل دیا گیا تھا ۔ ایک عورت ہونے کے باوجود مجھ سے بدسلوکی کی گئی ۔ انہوں نے کہا کہ اگر مرکزی دستے اس طرح سے کام کریں تو انہیں پھر کچھ کہنا نہیں ہے ۔ انہوں نے ماضی میں بھی مرکز میں بی جے پی حکومتیں دیکھی ہیں لیکن اس طرح کی حالت کبھی نہیں تھی ۔ ممتابنرجی نے اپنے آئندہ کی حکمت عملی کا انکشاف کرنے سے گریز کیا تاہم کہا کہ انڈیا اتحاد کے قائدین ان کے ساتھ ہیں اور انہوں نے مجھ سے رابطہ کیا ہے ۔ انہوں نے تاہم کہا کہ ان کی پارٹی پانچ ارکان پارلیمنٹ پر مشتمل ایک حقائق کا پتہ چلانے والی کمیٹی تشکیل دے گی اور مختلف مقامات کا دورہ کرتے ہوئے پتہ چلایا جائیگا کہ کہاں ترنمول کارکنوں پر حملے کئے جا رہے ہیں اور پارٹی دفاتر کو نقصان پہونچایا جا رہا ہے ۔ ممتابنرجی کو آج بھی قائد اپوزیشن راہول گاندھی سے بھی تائید حاصل ہوئی ہے ۔ راہول گاندھی نے آج ٹوئیٹ کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس میں اور دوسری جماعتوں میں کچھ لوگ خوش ہو رہے ہیں تاہم انہیں یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہئے کہ آسام اور بنگال میں عوامی فیصلہ کی چوری در اصل ہندوستانی جمہوریت کو تباہ کرنے کی سمت بی جے پی کی بڑی پیشرفت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ فی الحال سیاست کو بالائے طاق رکھنا چاہئے ۔ یہ صرف ایک یا دوسری پارٹی کی بات نہیں ہے بلکہ یہ ہندوستان کی بات ہے ۔ راہول گاندھی نے کل بھی ممتابنرجی کے 100 نشستوں کی چوری کے دعوی کی تائید کی تھی اور کہا تھا کہ آسام اور بنگال کا الیکشن چوری کیا گیا ہے ۔