مجھے فون ہیک ہونے کا خوف لگا رہتا ہے : کے ٹی آر کا انکشاف

   

حیدرآباد۔22اکٹوبر(سیاست نیوز) فون ہیک ہونے کا خوف کے ٹی آر کی نیندیں اڑا رہا ہے اور وہ اپنے فون و محفوظ رکھنے جستجو کرتے ہیں۔ خود کے ٹی آر نے اس بات کا انکشاف سائبر سیکیوریٹی کمپنی ایوانتی کی افتتاحی تقریب سے خطاب میںکیا او ر کہا کہ وہ ایک سیاستداں ہیں اور انہیں خوف لگا رہتا ہے کہ ان کی حکمت عملی اور منصوبہ بندی پر کوئی نظر رکھے ہوئے ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اب سڑکو ںپر چند ڈکیت ہیں ایسا نہیں ہیں بلکہ حساس معلومات کا سرقہ کرنے والے سائبر ڈکیت شہریوں کی خفیہ معلومات کے حصول کی کوشش میں مصروف ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں خوف رہتا ہے کہ ان کا فون ہیک کرلیا گیا یا اسے ہیک کیا جاسکتا ہے اسی لئے وہ ممکنہ حد تک اسے محفوظ رکھنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن انہیں اطمینان نہیں ہے۔ کے ٹی راما راؤ نے بتایا کہ ان کی کامیابی کی حکمت عملی اور منصوبہ بندی سے آگہی حاصل کرنے کی کوشش کرنے والوں کی جانب سے ان کے فون تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کی جاسکتی ہے اور موجودہ دور میں یہ ناممکن نہیں ہے لیکن تلنگانہ پہلی ایسی ریاست ہے جس نے سائبر سیکیوریٹی پالیسی تیار کرکے سائبر جرائم پر قابو پانے کی کوشش کی ۔ کے ٹی آر نے بتایا کہ سائبر جرائم پر قابو پانے کی پالیسی کو جلد قانونی شکل دی جائے گی ۔ سائبر جرائم پر قابو پانے سب سے اہم الکٹرانک آلات بالخصوص فون اور لیاپ ٹاپ کو ہیک ہونے سے محفوظ بنانا ہے ۔ انہوں نے مختلف سافٹ وئیر اور دیگر طریقہ کار کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کوششوں کے باوجود پیگاسس منظر عام پر آیا جس میں غیر قانونی فون سنے جا رہے تھے اور اب معاملہ سپریم کورٹ میں ہے۔ انہوںنے بتایا کہ تلنگانہ میں حکومت نے نلسار یونیورسٹی ماہرین سے مشاورت کے بعد سائبر سیکیوریٹی پالیسی تیار کی گئی اور اس پر عمل کیا جا رہاہے۔ وزیر نے سائبر سیکیوریٹی کمپنی ایوانتی کو مشورہ دیا کہ وہ الکٹرانک آلات کو محفوظ بنانے کی کوشش کرے ۔ م