مجھے میری ماںواپس دلاؤ!ماں کی نعش کے ساتھ 200 کیلومیٹر دور چرچ تک کا سفر ۔ مایوسی ہاتھ آئی

   

Ferty9 Clinic

حیدرآباد 26 اگسٹ ( سیاست نیوز ) آندھرا پردیش کے راجمنڈری سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے 200 کیلومیٹر کا سفر حیدرآباد سے منچریال ضلع بیلم پلی تک اپنی ماں کی نعش کو ایمبولنس میں رکھ کر سفر کیا ۔ اس کا یہ ماننا تھا کہ اگر بیلم پلی میں کاولری چرچ کے پادری نے اس کی ماں کے سر کو چھو لیا تو وہ دوبارہ زندہ ہوجائیگی ۔ چرچ کے پادری پروین کمار ہیں۔ اس شخص نے اپنا نام بتانے سے انکار کردیا اور کہا کہ اس کی ماں منی کماری کا جمعہ کو دیہانت ہوگیا تھا ۔ اس کا چار دن سے دواخانہ میں علاج چل رہا تھا ۔ وہ ایمبولنس میں اپنی ماں نعش کو رکھتے ہوئے رشتہ داروں کے ساتھ سیدھے چرچ کو پہونچا تاکہ پادری سے مل کر اس کی ماں کو دوبارہ زندہ کروایا جائے ۔ اس شخص کا کہنا تھا کہ اس نے ٹی وی پر کئی مرتبہ دیکھا کہ پروین کمار کچھ کرشمے کر رہا ہے اور اگر وہ اس کی ماں کو چھو لے تو اسے زندہ کیا جاسکتا ہے ۔ تاہم اسے تین گھنٹے تک انتظار کرنے کے بعد واپس جانا پڑا کیونکہ اسٹاف نے چرچ میں ایمبولنس کو داخل ہونے نہیںدیا ۔ اسٹاف کا کہنا تھا کہ پادری وہاںآنے والوں سے صرف اتوار کو ملاقات کرتا ہے ۔ پتہ چلا ہے کہ یہ شخص ایک انجینئر ہے ۔