شہر کو ماڈل بنانے کیلئے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ کوشش کا آغاز، رکن اسمبلی سرینواس ریڈی کی نمائندہ ’سیاست‘ سے بات چیت
محبوب نگر۔/18 جنوری، ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) انتخابات سے قبل جتنے بھی طبقات کے لوگ اپنے اپنے جائز مطالبات کی تکمیل کیلئے مجھ سے نمائندگی کئے ہیں ان میں سے کئی ایک میں نے پورے کئے ہیں اور کئی ایک مطالبات کی تکمیل کیلئے میں کوشش کررہا ہوں اور مجھے قوی امید ہے کہ تمام جائز مطالبات کیلئے میں نے تیقن دیا ہے وہ سبھی پورے ہوجائیں گے۔ یہ وضاحت رکن اسمبلی محبوب نگر ینم سرینواس ریڈی نے نمائندہ ’سیاست‘ محبوب نگر سے گفتگو کرتے ہوئے کی۔ وہ آج کافی خوشگوار موڈ میں تھے بتایا کہ مسلمانوں کے مختلف مکاتب فکر کے ذمہ داران ،کئی ایک تنظیموں کے ذمہ داران نے گذشتہ اسمبلی انتخابات کے موقع پر مجھ سے ملاقات کرکے کئی ایک مطالبات رکھے تھے جو برسہا برس سے مسلمانوں کے دلی آواز تھے لیکن تکمیل نہیں ہوپارہے تھے میں نے مطالبات کو بغور سننے کے بعد سبھی ذمہ داران کو جلد سے جلد مکمل کرنے کا تیقن دیا تھا اور میں نے مسلسل نمائندگی کا آغاز کیا اور مجھے بڑی خوشی ہوئی کہ چیف منسٹر ریونت ریڈی کی خصوصی توجہ کے نتیجہ میں 15 جنوری کو محبوب نگر کے مسلم مسائل کی یکسوئی اور مطالبات کی تکمیل کیلئے 45 کروڑ روپئے کا ریاستی حکومت نے باضابطہ جی او جاری کیا ہے۔ ایم ایل اے نے جی او کاپی نمائندہ ساست کے حوالے کی جس کی تفصیل ذیل میں درج کی جارہی ہے: مسلمانوں کے لئے شادی خانہ کی تعمیر ، گذشتہ 10 برسوں سے مسلمان مسلسل نمائندگی کرتے رہے نتیجہ صفر رہا اب اس شادی خانہ کی تعمیر ایک ایکر اراضی پر 25 کروڑ روپئے کے خرچ سے کی جائے گی جہاں مسلمانوں کی تقاریب باآسانی ممکن ہوسکے گی۔ حاجی غفار پٹرول پمپ کے عقب میں جو انتہائی مصروف ترین علاقہ ہے اردو گھر انتہائی خستہ حال تھا مخدوش عمارت بالکلیہ ناقابل استعمال تھی اب 15کروڑ کی لاگت سے 5 منزلہ شاندار عمارت کی تعمیر ممکن ہوسکے گی۔ مولا علی گٹہ پہاڑ کے مسلم قبرستان کی کمپاونڈ وال، سڑک و دیگر قبرستانوں کے تعمیری کاموں کیلئے 5 کروڑ کے صرفہ سے تعمیر ممکن ہوگی۔ جامع مسجد محبوب نگر کے توسیعی کاموں کیلئے دیڑھ کروڑ، اسی طرح عید گاہ وقف رحمانیہ وانا گٹو کے ترقیاتی کاموں کیلئے بھی دیڑھ کروڑ روپئے، وقف کامپلکس میں زائد رومس کیلئے50 لاکھ، شہر کے باہر قبرستان کیلئے 30 لاکھ، جہانگیر پیراں آئی ٹی آئی کیلئے ایک کروڑ ، محبوب نگر ٹاون کی مساجد و مدارس کے ترقیاتی کاموں کیلئے ایک ، ایک کروڑ ، اولڈ پالمور عاشور خانہ کیلئے 10 لاکھ، جمعیۃ القریش کمیونٹی ہال کیلئے 25 لاکھ ، عید گاہ اہلحدیث ترقیاتی کاموں کیلئے 50 لاکھ، محبوب نگر شہر کے قبرستانوں کی حصار بندی و دیگر سہولتوں کیلئے ایک کروڑ، مدینہ مسجد کمیونٹی ہال کی ترقی کیلئے 25 لاکھ، درگاہ رحمن اللہ شاہ ؒ کے ریڈنگ روم کمیونٹی ہال وغیرہ کیلئے 20 لاکھ، مائناریٹی ورکنگ ویمن ہاسٹل نیو ٹاؤن کیلئے ایک کروڑ، موتی مسجد ٹریننگ سنٹر کیلئے 50 لاکھ، نیو ٹاؤن میں وقف کامپلکس کی تعمیر کیلئے 4 کروڑ ، مائناریٹی کمیونٹی کے جدید شادی خانہ کی تعمیر ایک ایکر اراضی پر 10 کروڑ، اقلیتی طلبہ کیلئے کمپیوٹر ٹریننگ سنٹر کیلئے 50 لاکھ، اقلیتی خواتین کے ٹیلرنگ سنٹر کیلئے 25 کروڑ روپئے کی منظوری کا جی او جاری ہوچکا ہے۔ ایم ایل اے نے مزید کہا کہ وہ چیف منسٹر کی خصوصی دلچسپی کے ساتھ تلنگانہ بھر میں محبوب نگر کو ایک ماڈل شہر بنانے کیلئے ایک جامع منصوبہ کے ساتھ اپنی وسیع تر کوششوں کا آغاز کرچکے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ پسماندگی کیلئے شہرت رکھنے والے محبوب نگر کو ایک بڑے تعلیمی مرکز میں تبدیل کرنے کیلئے اقدامات شروع کردیئے ہیں۔ پالمور یونیورسٹی میں لاء کالج، انجینئرنگ کالج، ڈائٹ کالج کی شاندار جدید عمارت کی تعمیر، شہر کے تمام سرکاری کالجس و اسکولوں کا وہ مسلسل شخصی طور پر دورہ کررہے ہیں اور مسائل سے واقف ہوتے ہوئے کئی ایک مسائل کو بروقت حل کروارہے ہیں باقی مسائل کیلئے عہدیداروں کو پابند کیا جارہا ہے۔ ہر اتوار کو شرمدان پروگرام کے تحت پارٹی قائدین و عہدیداران کے ہمراہ اسکولس وکالجس و دیگر اداروں کا پابندی سے دورہ کررہے ہیں۔ انہوں نے آخر میں بتایا کہ وہ ایک خادم کی حیثیت سے اپنی شناخت بنانا چاہتے ہیں اور ان کا خواب ترقیاتی میدان میں محبوب نگر کو اول مقام دلانا ہے۔