سماجی فاصلہ و سینیٹائزیشن کو اولین ترجیح دینے تاجرین کا عہد
حیدرآباد 18 مئی (سیاست نیوز) ملک پیٹ محبوب گنج کے قریب آج اُس وقت ہلکی سی کشیدگی پیدا ہوگئی جب مارکٹ کے تاجرین اور ملازمین نے مارکٹ نہ کھولنے پر احتجاج منظم کیا۔ تقریباً 50 تاجرین کے گروپ نے محبوب گنج مارکٹ کے باب الداخلہ پر پہونچ کر جی ایچ ایم سی کی جانب سے گزشتہ دو ہفتوں سے مارکٹ کو بند رکھنے پر اعتراض کیا۔ احتجاجیوں نے یہ بتایا کہ مارکٹ کو مکمل طور پر بند کئے ہوئے 15 دن ہوچکے ہیں اس کے باوجود بھی مارکٹ کھولنے سے متعلقہ عہدیدار قاصر ہیں۔ جس سے تاجرین کو بھاری نقصان ہورہا ہے اور وہاں کے ملازمین بھی اِس سے عاجز آچکے ہیں۔ احتجاجیوں نے کہاکہ متعلقہ محکمہ جات کے عہدیداروں کو چاہئے کہ فوری مارکٹ کو کھولنے کے اقدامات کرے اور تمام دوکاندار اور تاجرین لاک ڈاؤن کے تمام قوانین بشمول سماجی فاصلہ اور سینیٹائزیشن کو اوّلین ترجیح دیں گے۔ تاجرین کی جانب سے اچانک احتجاج پر چادرگھاٹ پولیس کی ٹیم وہاں پہونچ گئی اور دوکانداروں کو وہاں سے فوری طور پر منتشر ہوجانے کی ترغیب دی۔ واضح رہے کہ کورونا وائرس کے 3 مثبت کیسیس پائے جانے پر یکم مئی کو ملک پیٹ محبوب گنج مارکٹ مکمل طور پر بند کردی گئی تھی اور جی ایچ ایم سی اور پولیس عہدیداروں نے مارکٹ کا محاصرہ کرتے ہوئے پولیس پیکٹ تعینات کردیا تھا۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ محبوب گنج مارکٹ کو کنٹینمنٹ زون قرار دیا گیا ہے اور مزید کچھ دنوں تک اِسے بند رکھنے کا منصوبہ ہے۔
