محدود حج کا فیصلہ عازمین کو کورونا سے بچانے کیلئے کیا : سعودیہ

   

ریاض ۔سعودی کابینہ نے کہا ہے کہ ’اس سال محدود حج کا فیصلہ اسلام کے پانچویں رکن کی محفوظ ادائیگی، عازمین کو کورونا کی وبا سے بچانے، ان کی صحت و سلامتی کو یقینی بنانے اور انسانی جان کے تحفظ سے متعلق اسلامی شریعت کے مقاصد کی تکمیل کے لیے کیا گیا ہے‘۔سعودی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ اس سال حج میں بہت کم لوگوں کو شامل کیا جائے گا۔ مملکت میں مقیم مختلف ملکوں کے شہریوں کو حج پر بھیجا جائے گا۔قائم مقام وزیر اطلاعات ڈاکٹر ماجد القصبی نے اجلاس کے بعد ایس پی اے کو بتایا کہ کابینہ میں کووڈ 19 (نئے کورونا وائرس) کی وبا سے متعلق متعدد رپورٹیں پیش کی گئیں۔ وائرس سے بچاؤ اورعلاج کی بابت ملکی اور عالمی حالات پر روشنی ڈالی گئی۔’سعودی کابینہ نے مقامی شہریوں اور مقیم غیرملکیوں اور تمام سرمایہ کاروں کو تاکید کی کہ وہ وبا سے بچاؤ سے متعلق اپنے فرض کو محسوس کریں۔ متعلقہ اداروں کی جانب سے جاری کردہ ہدایات کی پابندی اور حفاظتی و احتیاطی تدابیر کا احترام کریں‘۔سعودی کابینہ نے مزید کہا کہ ’حکومت نے مملکت بھر میں کرفیو پر عائد پابندی اٹھا کر اور تمام اقتصادی و تجارتی سرگرمیوں کی بحالی کا فیصلہ اس اعتماد کے ساتھ کیا ہے کہ سب لوگ وائرس سے بچاؤ کی بابت اپنا کردار احسن طریقے سے ادا کریں گے۔ قیادت کا نصب العین یہ ہے کہ ملک میں اقتصادی سرگرمیاں بحال ہوں۔ تعمیر و ترقی کا عمل آگے بڑھے اور ملکی معیشت مضبوط ہو‘۔سعودی کابینہ نے ایران کے حمایت یافتہ دہشت گردحوثیوں کی طرف سے 8 بارود بردار ڈرونز اور تین بیلسٹک میزائل مملکت میں شہریوں اور سول تنصیبات پرحملوں کی سخت مذمت کی۔ کابینہ اس یقین کا اظہار کیا کہ’ حوثیوں کے یہ حملے بے قصور شہریوں اور آبادی کے خلاف دہشت گردانہ عمل ہیں۔ حوثی جان بوجھ کر منصوبہ بند طریقے سے سیکڑوں لوگوں کو زندگی سے محروم کرنے کے درپے ہیں‘۔