کونسل کی رکنیت کے لیے ایک ماہ کی مہلت، کابینہ میں توسیع اور تبدیلیوں کی قیاس آرائیاں
حیدرآباد ۔20 ۔ مارچ (سیاست نیوز) محمد اظہرالدین کی وزارت کے مسئلہ پر الجھن برقرار ہے کیونکہ تلنگانہ گورنر کی جانب سے گورنر کوٹہ کے تحت ایم ایل سی کی دو نشستوں پر تاحال کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تلنگانہ حکومت نے پروفیسر کودنڈا رام اور محمد اظہرالدین کے ناموں کی سفارش کی ہے لیکن سابق گورنر جشنو دیو ورما نے 4 ماہ گزرنے کے باوجود فائل پر کوئی فیصلہ نہیں کیا اور موجودہ گورنر پرتاپ شکلا کی جانب سے بھی فوری طور پر فیصلہ کا امکان دکھائی نہیں دیتا۔ جوبلی ہلز کے ضمنی چناؤ سے عین قبل اقلیتی رائے دہندوں کو مطمئن کرنے کیلئے محمد اظہرالدین کو کابینہ میں شامل کیا گیا جبکہ وہ اسمبلی و کونسل میں کسی ادارہ کے رکن نہیں ہیں۔ اسمبلی اور کونسل کی رکنیت کے بغیر 6 ماہ تک وزارت میں برقراری کی گنجائش ہے اور محمد اظہرالدین کو کسی ایک ایوان کی رکنیت حاصل کرنے کیلئے صرف ایک ماہ باقی ہے۔ اپریل کے اختتام پر ان کی 6 ماہ کی مدت مکمل ہوجائے گی ۔ 6 ماہ کی تکمیل سے قبل حکومت انہیں کونسل کا رکن نامزد کرے گی ، اس بارے میں صورتحال غیر واضح ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ موجودہ گورنر نے بھی گورنر کوٹہ کے ناموں کے بارے میں کوئی بھی فیصلہ کرنے سے قبل قانون اور دستور کے ماہرین سے مشاورت کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت کو امید تھی کہ جشنو دیو ورما حکومت کی سفارشات کو منظوری دیں گے لیکن ارکان کونسل کا معاملہ سپریم کورٹ میں زیر دوران ہے، لہذا جشنو دیو ورما کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ موجودہ گورنر بھی سپریم کورٹ کے قطعی فیصلہ تک حکومت کی سفارشات پر کوئی فیصلہ نہیں کریں گے۔ اظہرالدین کی وزارت میں برقراری کیلئے اگر برسر اقتدار پارٹی کسی موجودہ ایم ایل سی کو استعفیٰ کی ترغیب دیتی ہے، تب بھی الیکشن کمیشن کی جانب سے ضمنی چناؤ کا فوری طور پر امکان نہیں ہے۔ گورنر کی عدم منظوری ایک طرف تو دوسری طرف اظہرالدین کیلئے محض ایک ماہ کی مہلت نے سیاسی حلقوں میں بے چینی پیدا کردی ہے۔ دستوری ماہرین کا ماننا ہے کہ 6 ماہ کی تکمیل کے بعد اظہرالدین کو دوبارہ حلف دلاتے ہوئے مزید 6 ماہ میں کابینہ میں برقرار رکھا جاسکتا ہے۔ اسی دوران ریاستی کابینہ میں توسیع اور تبدیلیوں کی قیاس آرائیاں شروع ہوچکی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ کانگریس ہائی کمان نے اسمبلی کے بجٹ سیشن کے بعد اس مسئلہ پر فیصلہ کرنے کا تیقن دیا ہے۔ ریاستی کابینہ میں محض دو وزراء کو شامل کرنے کی گنجائش موجود ہے اور وزارت کے دعویداروں کی تعداد زیادہ ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ہائی کمان نے وزراء کی کارکردگی کی بنیاد پر کابینہ میں تبدیلیوں کا اشارہ دیا ہے۔ موجودہ بعض وزراء کو علحدہ کرتے ہوئے نئے چہروں کو شامل کئے جانے کا امکان ہے۔ کابینہ میں توسیع و ردوبدل کی قیاس آرائیوں کے درمیان وزارت کے دعویداروں نے اپنی کوششوں کو تیز کردیا ہے۔1