محمد ریاض حسن کی یاد میں حیدرآباد سے دنیا بھر تک کا سفر

   

تقی حسن

حیدرآباد دکن کو اس بات کااحساس ہے کہ اس کے دامن میں ایسی شخصیتوں نے جنم لیا جنھوں نے دنیا بھر میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا اور اپنی انسانیت نوازی ، اپنی قابلیت اور اپنی صلاحیتوں کے ذریعہ مقامی ، علاقائی اور عالمی مسائل کے حل میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی ۔ یہ ایسے عظیم لوگ ہیں جنھوں نے حیدرآباد سے ترقی کرتے ہوئے دنیا بھر میں اپنی موجودگی کا اپنی صلاحیتوں کے ذریعہ احساس دلایا ، ایسی ہی شخصیتوں میں محمد ریاض حسن بھی شامل ہیں ۔ وہ جہاں ایک شفیق والد تھے وہیں اقوام متحدہ کے ایک مایہ ناز ہائیڈرولوجسٹ ، مخلص سرپرست اور مختلف تہذیبوں کے درمیان ایک پل کی حیثیت رکھتے تھے ۔ وہ ایک ایسی شخصیت تھی جس نے علم کی ایک روشن وراثت چھوڑی ہے ۔
محمد ریاض حسن اقوام متحدہ کے ایک مشیر ، ایک ہائیڈرولوجسٹ تھے ۔ انھوں نے فوڈ اینڈ اگریکلچر آرگنائزیشن (FAO) کے ذریعہ عالمی آبی سلامتی کیلئے دو دہوں سے زائد عرصہ تک غیرمعمولی خدمات انجام دیں۔ ایسا لگتا تھا کہ محمد ریاض حسن نے خود کو گلوبل واٹر سکیورٹی کیلئے وقف کرلیا ہو ۔ نومبر 2025 ء میں لندن میں 87 سال کی عمر میں اُن کا انتقال پرملال ہوا ۔ اگر ہم اُن کی زندگی کا جائزہ لیں تو بلاشبہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ محمد ریاض حسن کی زندگی براعظموں ، ثقافتوں اور نسلوں پر محیط تھی جس کی پہچان پیشہ ورانہ اعلیٰ و غیرمعمولی کارکردگی ، خاندان سے غیرمتزلزل وابستگی اور علم و عمل پر پختہ یقین کے ساتھ ساتھ دوسروں کی خدمت تھی ۔ ورنگل میں پیدا ہوئے محمد ریاض حسن انگریزی کے پروفیسر محمد سلیمان کے فرزند دلبند تھے جن کا گھر شاعر مشرق علامہ اقبال کی شاعری اور کلام سے بھرا ہوا تھا جب اُن کے والد محترم نے داعی اجل کو لبیک کہا اُن کے بڑے بھائی محمد محبوب علی آگے آئے ریاض اور اُن کے دوسرے بھائیوں محمود الحسن اور تجمل حسین کی بیس برسوں تک بہترین پرورشن اور زیور علم سے آراستہ کرنے میں کوئی دقیقہ باقی نہیں رکھا ۔ محبوب علی نے اپنے بھائیوں کو زیور علم سے آراستہ کرنے اور اُن کے مستقبل کو روشن بنانے کیلئے اپنی زندگی وقف کردی ۔ محبوب علی علامہ اقبال کے اس مصرع کے مصداق تھے جس میں انھوں نے کہا تھا ’’میں اُس کا بندہ بنوں گا جس کو خدا کے بندوں سے پیار ہوگا ‘‘ ریاض نے خدمت کے اسی جذبہ کو اپنے رگ و پہ میں رچا اور بسا لیا تھا ۔
اقوام متحدہ میں خدمات کے سال ، پانی ، ترقی اور عالمی خدمات :
ہندوستان کی باوقار عثمانیہ یونیورسٹی اور یونیورسٹی آف براڈفورڈ سے سیول انجینئرنگ کی ڈگریوں کے ساتھ محمد ریاض حسن نے آبی وسائل کے انتظام وانصرام میں فنی مہارت اور فکری گہرائی دونوں کو یکجا کیا ۔ فوڈ اینڈ اگریکلچر آرگنائزیشن (FAO) تک مختلف ترقی پذیر ملکوں میں غیرمعمولی خدمات انجام دیںجہاں انھوں نے زرعی پائیداری اور آبی سلامتی کو فروغ دے کر بے شمار برادریوں کی زندگیوں میں بہتری لائی لیکن محض وہ ایک انجینئر ہی نہیں تھے بلکہ وہ ایک بہترین ادیب بھی تھے ، اُن کے خطوط دی گارجین اور دی انڈی پنڈنٹ جیسے اخبارات میں بڑے اہتمام سے شائع کئے جاتے تھے ، اسی طرح ہندوستانی اخبارات بشمول دی ہندو ، دکن کرانیکل اور روزنامہ سیاست میں اُن کے مضامین شائع ہوا کرتے تھے ۔ انھوں نے The New Struggle to Survival نامی ایک کتاب بھی تصنیف کی ۔
اس ضمن میں آپ کو اُن کے بھتیجے تقی حسن کے خیالات سے واقف کراتے ہیں ۔ تقی حسن جو تین بچوں کے باپ ہیں اور وادی سلیکان کی ایک معروف کاروباری شخصیت ہیں اپنے چچا مرحوم کے بارے میں کہتے ہیں : ’’وہ میرے اور میری بہن کیلئے باپ جیسے تھے ، وہ ہمارے لئے محض ایک چچا نہیں تھے جب ہمارے والدین کا انتقال ہوا تو وہ ایک باپ کی طرح ہماری زندگیوں میں داخل ہوئے اور اس خلاء کو پُر کیا جو کبھی مکمل طورپر پُر نہیں ہوسکتی ۔ انھوں نے مجھے سکھایا کہ خاندان کی د یکھ بھال کیا ہوتی ہے ۔ اور ذمہ داری کیسے نبھائی جاتی ہے اور وہ اقدار کیسے آگے بڑھائے جاتے ہیں جو ہمارے دادا محترم سے چچاؤں کے ذریعہ ہم تک پہنچی تھی ‘‘۔ ریاض زندگی بھر شاعر مشرق علامہ محمد اقبالؔ کے مداح رہے۔ علامہ اقبالؔ وہ شاعر و فلسفی جن کی شاعری خودی کی پہچان اور خدمت خلق کادرس دیتی ہے۔ دوست اور خاندان والے یاد کرتے ہیں کہ وہ کس طرح علامہ اقبالؔ کی شاعری کو روحانی رہنمائی اور عملی دانائی کے طورپر پڑھا کرتے تھے ۔
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا خود بندے سے پوچھا بتا تیری رضا کیا ہے
علامہ اقبال ؔ کا یہ شعر ریاض کے فلسفہ حیات کی عکاسی کرتا ہے زندگی میں خود اختیار رہو مگر اﷲ رب العزت کے حضور عاجزی و انکساری کے ساتھ وہ اقبالؔ کے اس خیال کے بھی عملی نمونہ تھے ۔
علم میں بھی سرور ہے لیکن
یہ وہ جنت ہے جس میں حُور نہیں
ریاض کے نزدیک علم بذات خود کوئی آخری مقصد نہیں تھا بلکہ یہ خدمت خلق کا ایک ذریعہ تھا جسے دوسروں کی بھلائی کیلئے استعمال کیا جانا چاہئے ۔
قابل فخر ہندوستانی مہاجر اور برطانوی شہری : ریاض کا حیدرآباد سے لندن کا سفر اس بات کی بہترین مثال ہے کہ ہجرت کس طرح مثبت اور تعمیری ہوسکتی ہے ۔ اُن کے بیٹے مہدی حسن کے مطابق جوکہ ایک مشہور و معروف صحافی اور Zeleo کے بانی ہیں اُن کے والد برطانیہ میں ایک قابل فخر ہندوستانی مہاجر تھے اور ساتھ ہی ایک قابل فخر برطانوی شہری بھی ۔ ریاض نے کبھی بھی ان دونوں شناختوں کو ایک دوسرے سے متضاد نہیں سمجھا بلکہ اُنھیں ایک دوسرے کی تکمیل قرار دیا ۔ وہ بہ یک وقت اپنی حیدرآبادی جڑوں پر فخڑ بھی کرسکتے تھے ۔ اُردو میں اقبالؔ کے اشعار پڑھ سکتے تھے اور اپنی برطانوی شہریت کو پوری طرح قبول کرسکتے تھے ۔ ان کی دختر روحی حسن جو آئی ٹی وی نیوز کی ایوارڈ یافتہ برطانوی صحافی ہیں اور بیٹے مہدی دونوں اپنے والد کے اس یقین کی عکاسی کرتے ہیں کہ انسان اپنی ثقافتی شناخت سے جڑے رہتے ہوئے بھی دنیا سے بھرپور انداز میں وابستہ رہ سکتا ہے ۔
مہدی حسن نے کہاکہ اُن کے والد کی پوری زندگی قوم پرستوں ، متعصب افراد اور غیرملکیوں سے نفرت کرنے والوں کیلئے ایک مؤثر جواب تھی جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ مہاجر کبھی کسی معاشرے کا مکمل حصہ نہیں بن سکتے ۔ ریاض دونوں تقاضوں سے مکمل طورپر وابستہ تھے ۔ وہ ایک ہمہ جہت ثقافتی عالمی شہری کی جیتی جاگتی مثال تھے جیسا کہ اُن کی لخت جگر روحی کہتی ہیں : ’’یہ کوئی حیرت و تعجب کی بات نہیں کہ والد صاحب کی مثال نے مجھے دنیا بھر میں انسانی بحرانوں اور تنازعات کی رپورٹنگ کیلئے اپنا کیرئیر وقف کرنے کی ترغیب دی ‘‘ ۔
وہ خاندان جو انھوں نے اپنے پیچھے چھوڑا : ریاض کے پسماندگان میں اُن کی اہلیہ ڈاکٹر رخسانہ حسن جنھوں نے NHS سے وابستہ رہ کر کئی دہوں تک میڈیکل پریکٹس کی ، وہ ہر لحاظ سے اُن کی شریک حیات تھیں۔ سفر کی ساتھی ، ایک معالج ، ایک دوست اور زندگی بھر کا ساتھ دینے اور ہر چیز کا خیال رکھنے والی ، زندگی کی ہمسفر ۔ اُن کی زندگی دو براعظموں پر محیط رہیں۔ ریاض اپنے پیچھے فرزند مہدی حسن اور دخترروحی کو چھوڑ گئے ۔ دونوں معروف صحافی ہیں اور اپنے والد سے سچائی اور دیانتداری کی وابستگی وراثت میں پائی ۔ وہ اپنے تین پوتے پوتیوں کو بھی یادگار کے طورپر چھوڑ گئے جو اُن کی وراثت کو آگے بڑھانے کا فریضہ انجام دے رہے ہیں ۔ اُن کے علاوہ ریاض کے بھانجے ؍ بھتیجے تقی حسن اور اُن کی بہن بھی اُن کے پسماندگان میں شامل ہیں جنھیں انھوں نے اپنے بچوں کی طرح پالا ۔ حسن فیملی حیدرآباد ، ٹورنٹو ، ہیوسٹن اور کیلیفورنیا تک پھیلی ہوئی ہے ۔ ریاض کی میراث اُن اقدار میں زندہ ہے جو انھوں نے سکھائیں۔ لوگ ایسے بھی ہیں جہاں میں جو پُرنور ہیں ، بنی آدم کیلئے شمع محور ہیں۔