محمود علی کے ووٹ پر الیکشن کمیشن سے کانگریس کی شکایت

   

امیدوار کے نام کے اعلان پر تنازعہ، شکایت الیکشن کمیشن کے زیر غور
حیدرآباد۔وزیر داخلہ محمد محمود علی نے گریجویٹ ایم ایل سی انتخابات میں اپنے ووٹ کا استعمال کیا لیکن رائے دہی کے بعد دیئے گئے بیان نے تنازعہ پیدا کردیا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ الیکشن کمیشن ان کے بیان کا جائزہ لے رہا ہے تاکہ انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے اپوزیشن کے الزام کی جانچ کی جاسکے۔ وزیر داخلہ نے اولڈ ملک پیٹ میں واقع اگریکلچر اسٹاف ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ کے پولنگ بوتھ 588 میں صبح حق رائے دہی سے استفادہ کیا بعد میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس امیدوار وانی دیوی کے حق میں انہوں نے ووٹ دیا ہے۔ انتخابی ضابطہ اخلاق کے تحت کسی بھی رائے دہندہ کو اپنے ووٹ کو برسر عام کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ وزیر داخلہ کی جانب سے امیدوار کے حق میں ووٹ کے استعمال کا برسرعام اعلان الیکشن کمیشن کے علم میں لایا گیا ۔ الیکشن کمیشن اس بات کا جائزہ لے رہا ہے کہ آیا وزیر داخلہ کے ووٹ کو رائے شماری میں شامل کیا جائے یا نہیں۔ سابق میں ایک رائے دہندہ کی جانب سے اسی طرح کے اظہار کے بعد الیکشن کمیشن نے ووٹ کو ضائع کردیا تھا۔ الیکشن کمیشن کے ذرائع نے بتایا کہ کانگریس پارٹی کی جانب سے کی گئی شکایت کا جائزہ لیتے ہوء کارروائی کی جائے گی۔ الیکشن کمیشن کوآرڈینیشن کمیٹی کانگریس پارٹی کے کنوینر جی نرنجن نے چیف الکٹورل آفیسر ششانک گوئل کو شکایت روانہ کی ہے۔ انہوں نے وزیر داخلہ کے بیان کی ویڈیو کلپ بھی روانہ کی اور انتخابی ضابطہ اخلاق کے مطابق کارروائی کی اپیل کی۔