محمودخلیل کی گرفتاری کیخلاف امریکہ میں مظاہرے

   

نیویارک کی عدالت نے خلیل کی وکلاء سے بات کرنے کا حکم دیدیا

نیویارک : کولمبیا یونیورسٹی کے طالب علم محمود خلیل کی گرفتاری کیخلاف امریکہ میں مظاہرے جاری ہیں۔نیویارک یونیورسٹی اور سٹی یونیورسٹی آف نیو یارک کے 100سے زائد طلبہ نے مظاہرہ کیا،طلباء نے واشنگٹن سکوائر پارک میں جمع ہو کر فلسطینیوں کے حق میں مظاہرہ کیا ،یونیورسٹی آف کیلی فورنیا برکلے اور لاس اینجلس میں بھی احتجاج کیا۔امریکہ کی وفاقی عدالت نے محمود خلیل کی جبری بے دخلی روک دی، ٹرمپ انتظامیہکا کہنا ہے کہ محمود خلیل حماس کے حامی ہیں ،ہر صورت ڈی پورٹ کیا جائے گا۔کولمبیا یونیورسٹی کے طالب علم محمود خلیل کی گرفتاری کیخلاف امریکہ میں مظاہرے جاری ہیں۔نیویارک یونیورسٹی اور سٹی یونیورسٹی آف نیو یارک کے 100سے زائد طلبہ نے مظاہرہ کیا،طلباء نے واشنگٹن سکوائر پارک میں جمع ہو کر فلسطینیوں کے حق میں مظاہرہ کیا ،یونیورسٹی آف کیلی فورنیا برکلے اور لاس اینجلس میں بھی احتجاج کیا۔امریکا کی وفاقی عدالت نے محمود خلیل کی جبری بے دخلی روک دی، ٹرمپ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ محمود خلیل حماس کے حامی ہیں ،ہر صورت ڈی پورٹ کیا جائے گا۔دریں اثناء فلسطینیوں کے حق میں مظاہرہ کرنے پر گرفتار کولمبیا یونیورسٹی کے طالبعلم محمود خلیل کو اپنے وکلا سے بھی علیحدہ بات کرنے کی اجازت نہیں۔اس بات کاانکشاف محمود خلیل کے خلاف مقدمے کی سماعت کے دوران ہواجس پر مین ہیٹن کورٹ کے جج جیسی فرمین نے حکم دیا ہیکہ محمود خلیل سے اس کے وکلا کی بات کرائی جائے۔تاہم اس کے وکیل رمزی قسیم کا کہنا تھا کہ خلیل کو نیویارک کی سڑک سے جس روز سے گرفتار کیا گیا ہے وہ ایک بار بھی اس سے بات نہیں کرسکے۔صدرٹرمپ نے محمود خلیل کو قومی سلامتی کیلئے خطرہ قرار دیا ہے اور اس کا گرین کارڈ منسوخ کردیا ہے۔محمکمہ انصاف کے وکیل کا کہنا ہے کہ وہ خلیل کا مقدمہ نیویارک سے نیو جرسی یا لیوزی اینا منتقل کرنا چاہتے ہیں۔خلیل کی 8 ماہ کی حاملہ اہلیہ کا کہنا ہے کہ ان کے شوہر کو افطارسے لوٹتے ہوئے گرفتار کیا گیا۔یہ گرفتاری جسم سے روح چھیننے جیسی ہے اور انہیں ایسی حالت میں بھی اپنے شوہر سے بات کی اجازت نہیں دی جا رہی۔