’ محنت کرے مرغ صاحب انڈا کھائے فقیر صاحب ‘۔ کھرگے کا طنز

   

کے سی آر نے سونیا گاندھی کو دھوکہ دیا، میدک اور سنگاریڈی میں بس یاترا

تلنگانہ میں 30 لاکھ بیروزگار نوجوان گذشتہ 9 برسوں سے ملازمت کے انتظار میں ہیں لیکن کے سی آر نے نوجوانوں کے ساتھ دھوکہ کیا ہے۔ ملکارجن کھرگے نے کہا کہ نریندر مودی دوچار ہزار تقررات کے مکتوب حوالے کرتے ہوئے عوام کو دھوکہ دے رہے ہیں جبکہ نو برسوں میں 2 کروڑ سالانہ کے حساب سے 18 کروڑ روزگار فراہم کئے جانے تھے۔ انہوں نے کہاکہ وزیر اعظم کا جھوٹ عوام میں بے نقاب ہوچکا ہے اور جھوٹ اور دھوکہ دینے والوں پر عوام بھروسہ نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی عوام کے ساتھ ہے اور آپ کو ڈرنے اور گھبرانے کی ضرورت نہیں، جو ڈرتا نہیں وہ ضرور جیتے گا اور ہم ڈرنے والے نہیں بلکہ لڑنے والے ہیں۔ صدر کانگریس نے سماج کے تمام طبقات کو بھروسہ دلایا کہ سونیا گاندھی کی جانب سے اعلان کردہ 6 ضمانتوں پر برسراقتدار آتے ہی عمل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ نریندر مودی، امیت شاہ اور کے سی آر کانگریس کو نشانہ بنارہے ہیں۔ ملک کیلئے قربانی دینے والے گاندھی خاندان کے ارکان سونیا گاندھی، راہول گاندھی اور پرینکا گاندھی پر تنقید کرنا باعث شرم ہے۔ انہوں نے کہا کہ گاندھی خاندان نے تلنگانہ کو ترقی دی۔ میدک سے اندرا گاندھی کے الیکشن لڑنے کے بعد تین عوامی شعبہ کے ادارے قائم کئے گئے۔ کانگریس پارٹی ہمیشہ غریبوں کی بھلائی صرف کانگریس سے ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ تشکیل کے وقت معاشی طور پر مستحکم تھی جسے کے سی آر نے مقروض ریاست میں تبدیل کردیا۔9 برس میں 5 لاکھ کروڑ کا قرض حاصل کیا گیا اور ہر شہری پانچ لاکھ روپئے کا مقروض ہوچکا ہے۔ سنگاریڈی اور میدک میں بس یاترا اور جلسہ عام کے موقع پر ہزاروں کی تعداد میں عوام نے شرکت کی اور صدر کانگریس کا استقبال کیا۔ کھرگے نے کہا کہ کے سی آر برسراقتدار آتے ہی من مانی پر اتر آئے اور عوام کے فائدہ کے بجائے خاندان کے فائدہ کی فکر کی۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کی تشکیل کے ساتھ ہی کے سی آر کا حقیقی رنگ ظاہر ہوگیا۔ کھرگے نے کے سی آر کو چیلنج کیا کہ وہ کرناٹک کا دورہ کرتے ہوئے حکومت کی جانب سے 5 ضمانتوں پر عمل آوری کا جائزہ لیں۔ اس موقع پر صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی، جنرل سکریٹری اے آئی سی سی انچارج تلنگانہ مانک راؤ ٹھاکرے، سی ایل پی لیڈر بھٹی وکرامارکا، رکن اسمبلی جگا ریڈی، سابق وزیر محمد علی شبیر، دامودھر راج نرسمہا، وی ہنمنت راؤ، محمد فخر الدین اور دیگر قائدین نے مخاطب کیا۔