محکمہ آبرسانی میں انتظامی بے قاعدگیاں، بدعنوانیوں میں اضافہ

   

کئی ملازمین برسوں سے ایک ہی جگہ کام کر رہے ہیں۔ کئی جائیدادیں بھی خالی
حیدرآباد ۔ 3 ۔ ڈسمبر (سیاست نیوز) حیدرآباد میٹرو واٹر سپلائی اینڈ سیوریج بورڈ کے انتظامی امور میں بڑی لاپرواہی ہورہی ہے جس کی وجہ سے انتظامیہ دگرگوں حالات کا شکار ہے اور یہاں بدعنوانیوں کی کوئی حد ہی نہیں ہے ۔ خاص کر دفتری فائلس برفدان کی نذر ہورہی ہیں۔ دراصل کئی برس کا عرصہ گزرنے کے باوجود یہاں پر ملازمین کے تبادلے عمل میں نہیں لائے جارہے ہیں اور ساتھ ہی مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات بھی نہیں کئے جارہے ہیں اور اس بات کی بھی اطلاعات ہیں کہ واٹر بورڈ ایم ڈی کی جانب سے جنرل ٹرانسفرس کیلئے احکامات جاری کئے جا نے کے باوجود عہدیداران ان احکامات پر عمل آوری نہیں کر رہے ہیں جبکہ ملازمین کا کہنا ہے کہ مخلوعہ جائیدادوں سے متعلق بھی وہی رفتار بے ڈھنگی جاری ہے اور اس معاملہ میں سوال کرنے پر کہا جاتا ہے کہ معاملہ عدالت میں زیر دوران ہے، حالانکہ مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات کیلئے حکومت نے ہری جھنڈی دکھادی ہے۔ اس کے باوجود تقررات عمل میں نہیں لائے جارہے ہیں اور ملازمین ایک طویل عرصہ سے ایک مقام پر ڈیوٹی انجام دینے کی وجہ سے رشوت خوری اور بدعنوانیاں عام ہوچکی ہیں ۔ یہاں تک کہ بعض ڈویژنس میں ملازمین لائن مین کی سطح سے ترقی کرتے ہوئے طویل عرصہ سے ایک ہی مقام پر ڈیوٹی انجام دے رہے ہیں اور بعض لوگ مینجر کی سطح سے ترقی کرتے ہوئے جنرل مینجر کے عہدے تک ایک ہی ڈیویژن کی حدود میں ڈیوٹی انجام دے رہے ہیں، یہی وجہ ہے کہ مختلف ڈیویژنس میں غیر قانونی نل کنکشنس میں اضافہ کے علاوہ واٹر بلز بڑی مقدار میں واجب الادا ہیں اور لوگ گھریلو استعمال کے تحت نل کنکشن حاصل کر کے تجارتی مقاصد کے تحت استعمال کر رہے ہیں۔ اس کی واضح مثال یہ ہے کہ ایک سیاسی لیڈر نے 25 ایم ایم پائپ کے ذریعہ غیر قانونی کنکشن حاصل کر کے بائیک سرویسنگ سنٹر چلا رہا تھا اور حالیہ دنوں میں افسران نے اس کی نشاندہی کرتے ہوئے اس سیاسی لیڈر کے خلاف کریمنل کیس درج کیا تھا مگر دوسرے ہی دن ایک اعلیٰ افسر نے اس کیس کو واپس لے لیا ہے اور اس اقدام کی وجہ سے واٹر بورڈ کو تقریباً 12 لاکھ کا نقصان ہوا ہے اور اس معاملہ میں ویجلنس افسران رپورٹ پیش کرنے کی اطلاعات ہیں۔ الغرض قرضوں میں ڈوبے ہوئے واٹر بورڈ کو بورڈ ایم ڈی اس دلدل سے نکالنے کی جدوجہد کر رہے ہیں تو عہدیداران مزید نقصانات کے دلدل میں پھانسنے کے مکروہ اقدامات کر رہے ہیں۔